فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 434

فضائل القرآن — Page 385

فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 385 وَالْإِشْرَاقِ وَالطَّيْرَ مَخَشُورَةً یہاں بھی طیر کا ناصب سحر ہے اور میں حیران ہوں کہ مفسرین نے پرندوں کے تسبیح کرنے کے معنے کہاں سے لئے۔تیسری آیت یہ ہے وَلَقَدْ أَتَيْنَا دَادَدَ مِنَّا فَضْلًا يُجِبَالُ اَوِبِي مَعَهُ وَالطَّير يم نے داؤڈ پر بڑافضل کیا اور پہاڑوں سے کہا اے پہاڑو! تم بھی اس کی تسبیح کا تسبیح سے جواب دیا کرو۔اسی طرح ہم نے اسے پرندے بھی دیئے۔گویا یہاں اتينا الطير فرمایا گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ پرندے تسبیح کیا کرتے تھے۔غرض طیر کا ناصب یا سحر ہے یا آتی ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے حضرت داؤد کو طیر بھی دیئے تھے لیکن میں کہتا ہوں اگر اس کے معنے تسبیح کے بھی کر لو تو جب زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کر رہی ہے تو پرندوں کی تسبیح میں کونسی بڑی بات ہوسکتی ہے۔مجھے ہمیشہ آج کل کے علماء پر تعجب آیا کرتا ہے کہ جب حضرت داؤد یا حضرت سلیمان یا حضرت عیسی عَلَيْهِمُ السَّلَام کے متعلق کوئی آیت آئے تو اس کے وہ اور معنی لے لیتے ہیں لیکن اگر ویسی ہی آیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آجائے تو اس کے معنی اور کر لیتے ہیں۔حضرت داؤد کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہاڑ اس کے ساتھ ساتھ تسبیح کرتے تھے۔تو کہتے ہیں پہاڑ واقعہ میں سُبحان الله سبحان اللہ کیا کرتے تھے اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا تعالیٰ کہے کہ ہم نے زمین و آسمان آپ کے لئے مسخر کر دیئے تو کہیں گے یہاں تشبیہہ مراد ہے۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ ذکر آئے کہ انہوں نے مُردے زندہ کئے تو کہیں گے یہاں مُردوں سے روحانی مردے مراد ہیں لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق اگر یہ الفاظ آجائیں تو جب تک وہ یہ نہ منوالیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے مردوں کے نتھنوں میں پھونک مار کر انہیں زندہ کر دیا تھا، اس وقت تک انہیں چین ہی نہیں آتا۔جنات کا ذکر اس کے بعد میں جنوں کو لیتا ہوں۔یہ اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت میرے سامنے ایک ایسے دوست بیٹھے ہیں جو جنوں کے قابض کہلاتے ہیں اور بائیں طرف وہ بیٹھے ہیں جو کوشش کرتے رہتے ہیں کہ جن اُن کے قبضہ میں آجائیں۔میں اُمید کرتا ہوں کہ اگر میں ان کے خلاف طبیعت کوئی