فضائل القرآن — Page 386
فصائل القرآن نمبر۔۔۔386 بات کہہ دوں تو وہ مجھے معاف کریں گے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھی یا بری کوئی مخلوق چن ضرور ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا مگر سوال یہ نہیں کہ جن کوئی مخلوق ہے یا نہیں بلکہ سوال اُن جنوں کا ہے جو حضرت سلیمان کے ساتھ تھے اور حضرت سلیمان کے متعلق اُن جنوں کا ذکر ہے جن کا با قاعدہ لشکر تھا۔وہ خبر میں لالا کر دیا کرتے تھے، وہ باقاعدہ لڑائیوں میں ساتھ جاتے تھے حتی کہ جنوں کے پیروں کے نیچے چیونٹیاں بھی کچلی جاتی تھیں۔پس اس وقت سوال اُن جنوں کا ہے جو ہر وقت حاضر رہتے تھے اور جن کی فوجیں رائٹ لیفٹ کرتی رہتی تھیں۔رسول کریم صلی نے یتیم کے پاس جنوں کی آمد ج اب سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا قرآن میں حضرت سلیمان کے متعلق ہی یہ ذکر آیا ہے یا اور کسی نبی کے متعلق بھی لکھا ہے کہ اُس کے پاس جن آئے۔سو جب ہم اس غرض کے لئے قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو سورہ احقاف میں ہمیں یہ آیات نظر آتی ہیں۔وَاِذْ صَرَ فَنَا إِلَيْكَ نَفَرًا منَ الْجِنِ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْآنَ ، فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوا انْصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِمْ مُنْذِرِينَ قَالُوا يَقَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَبًا أُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِى إِلَى الْحَقِّ وَإِلَى طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ يُقَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعَى الله وَامِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرَكُمْ مِنْ عَذَابِ اليْمٍ - " یعنی اس وقت کو بھی یاد کرو جب ہم جنوں میں سے کچھ لوگ جو قرآن سنے کی خواہش رکھتے تھے تیری طرف پھیر کر لے آئے۔جب وہ تیری مجلس میں پہنچے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا خاموش ہو جاؤ تا کہ قرآن کی آواز ہمارے کانوں میں اچھی طرح پڑے۔جب قرآن کی تلاوت ختم ہوگئی تو وہ اپنی قوم کی طرف واپس چلے گئے اور انہوں نے اسلام کی اشاعت شروع کر دی اور اپنی قوم سے کہا اے ہماری قوم ! ہم نے ایک کتاب کی تلاوت سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اُتاری گئی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسی سچا نبی تھا اور اُس نے جو کچھ کہا تھا خدا کی طرف سے کہا تھا۔یہ کتاب حق کی طرف بلاتی ہے اور سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔اے ہماری قوم کے لوگو! اللہ تعالیٰ کے منادی کی آواز کوشنو اور