فضائل القرآن — Page 384
فصائل القرآن نمبر۔۔۔جبال سرداران قوم کو بھی کہتے ہیں 384 اب میں لغت سے بتاتا ہوں کہ اس کے اور معنے بھی ہیں۔چنانچہ جبل کے معنے لغت میں سَيْدُ الْقَوْمِ کے لکھے ہیں۔واپس حضرت داؤد کے لئے جبال مسخر کر دیئے کے معنی یہ تھے کہ حضرت داؤد علیہ السلام یہود کے وہ پہلے بادشاہ تھے جنہوں نے اردگرد کے قبائل پر فتح پائی اور وہ ان کے ماتحت ہو گئے۔حضرت داؤد علیہ السلام سے پہلے کوئی بادشاہ ایسا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کے علاوہ دوسری اقوام پر بھی حکومت کی ہولیکن حضرت داؤ پہلے بادشاہ ہیں جن کے اردگرد کے حکمران ان سے مطیع ہو گئے تھے۔اگر کوئی کہے کہ قرآن میں تو یسبحن کا لفظ آتا ہے۔تم اس کے معنے مطیع کے کس طرح کرتے ہو؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جبال چونکہ مونث ہے اس لئے يُستخن کا لفظ آیا ہے ورنہ سردارانِ قوم کے معنے کوملحوظ رکھتے ہوئے اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ قومیں آپ کی مطیع ہو گئی تھیں۔پرندوں کی تسبیح کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں باقی رہے طیر۔سوان کے لئے تسبیح قرآن میں آئی ہی نہیں اور اس امر کا کہیں ذکر نہیں کہ وہ حضرت داؤد کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے۔دراصل لوگوں کو عربی زبان کے ایک معمولی قاعدہ سے ناواقفیت کی وجہ سے دھوکا لگ گیا اور وہ خیال کرنے لگے کہ جبال کے ساتھ کھیر بھی تسبیح کیا کرتے تھے۔حالانکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ وَسَخَرْ نَا مَعَ دَاوُدَ الْجِبَالَ يُسَبَّحْنَ وَالطَّير یہاں تیر پر زبر ہے اور ز بر دینے والا سحر کا لفظ ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہم نے داؤد کے لئے پہاڑ مسخر کر دیے جو نبیح کرتے تھے۔اسی طرح ہم نے کا یہ بھی مسخر کر دیئے یہاں کسی تسبیح کا ذکر نہیں۔صرف اتنے معنے لئے جا سکتے ہیں کہ انہیں پرندوں سے کام لینے کا علم آتا تھا۔جیسے کبوتروں سے خبر رسانی وغیرہ کا کام لے لیا جاتا ہے۔پس قرآن میں سخرنا الطير ہے يُستخن الطير نہیں ہے۔دوسری آیت یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِي