فضائل القرآن — Page 368
فصائل القرآن نمبر۔۔۔368 وہ بہت لمبا ہے۔یعنی دنیا میں قسم قسم کی تاریکیاں ہوتی ہیں اور ان تمام تاریکیوں کو دور کرنے کے کچھ ذرائع ہوتے ہیں جن کی آخری کڑی خدا ہے۔جب وہ کڑی تیار ہو جاتی ہے تو تاریکی دور ہو جاتی ہے اور فلق صبح ہو جاتا ہے۔ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ لوگ بیمار ہوتے ہیں اور ڈاکٹر اُن کا علاج کرتے ہیں مگر کیا ان کے علاج سے سارے مریض اچھے ہو جاتے ہیں؟ یقینا تمام قسم کا علاج کرنے کے باوجود بعض مریضوں پر ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب ڈاکٹر کہ دیتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔یہی حال ہر پیشے کا ہے۔وکیل کو لے لو تو اُسے وکالت میں، انجینئر کو لے لو تو اسے انجینئرنگ میں ایک جگہ پہنچ کر رستہ بالکل بند نظر آتا ہے اور سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ اُس کی غیب سے مدد کرے۔پس ایسی حالت میں سوائے خدا کے اور کوئی مصیبت دور نہیں کر سکتا اور اسی کو فالِی الْإِصْبَاح کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے لیکن اگر خالی یہ کہا جاتا کہ اللہ مشکلات کو دور کرنے والا ہے تو اس سے وہ مضمون ادا نہ ہوتا جو فَالِقُ الْإِصْبَاح کے الفاظ میں ادا ہوا ہے اور جو رات اور صبح کی کیفیت سے پیدا ہوتا ہے پس اس استعارہ نے لمبے مضامین کو نہایت مختصر الفاظ میں ادا کر دیا۔دوسرے استعارہ سے وسعتِ نظر پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہودیوں کے متعلق فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بندر اور سور بنا دیا۔اب اگر قرآن کریم یہ کہتا کہ ہم نے انہیں بے حیا بنادیا تو ان الفاظ میں اس مضمون کا ہزارواں حصہ بھی ادا نہ ہوتا جو قِرَدَةً اور خَنَازِیر کے الفاظ میں ادا ہوا ہے کیونکہ قِرَدَةً اور خَنَازِیر کی بیبیوں خصوصیتیں ہیں کوئی ایک خصوصیت نہیں۔مثلاً بے حیائی بھی ایک خصوصیت ہے۔گندگی بھی ایک خصوصیت ہے۔خنزیر نہایت ہی گندہ ہوتا ہے اور یہودی بھی حد درجہ غلیظ ہوتے ہیں۔میں نے ایک دفعہ جہاز کا سفر کیا تو کچھ یہودی بھی اس جہاز میں سوار ہو گئے۔میں نے انہیں دیکھا تو وہ اتنے گندے تھے کہ گویا چوہڑے ہیں مگر جب بمبئی جہاز پہنچا تو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ نہایت زرق برق لباس پہنے بیٹھے ہیں۔میں کچھ حیران سا ہوا کہ یہ کہاں سے آگئے مگر پھر معلوم ہوا کہ یہ وہی یہودی ہیں جو سارے سفر میں ساتھ رہے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے جو قِرَدَةٌ اور خنازیر کے الفاظ استعمال کئے ہیں تو اسی لئے کہ بتائے کہ بندر اور سور میں جو خصوصیتیں پائی جاتی ہیں وہ سب ان میں پائی جاتی ہیں۔اگر صرف اتنا کہہ دیتا کہ