فضائل القرآن — Page 369
369 فصائل القرآن نمبر۔۔۔یہودی گندے اور بدکار ہیں تو وہ مضمون ادا نہ ہو سکتا۔غرض قِرَدَةً اور خَنَازِیر کے الفاظ سے مضمون کو حیرت انگیز وسعت ہوئی ہے حتی کہ قِرَدَةً اور خنازیر کی بعض خصوصیات آج معلوم ہورہی ہیں اور وہ خصوصیات بھی یہودی قوم میں پائی جاتی ہیں۔مثلاً بندر میں نقالی کا مادہ ہوتا ہے اور یہودیوں میں بھی نقل کا مادہ کمال درجہ پر پہنچا ہوا ہے۔پس یہودیوں کے متعلق بتایا کہ وہ صرف بد کار ہی نہیں بلکہ نقال بھی ہیں۔اسی طرح بندر پانی سے ڈرتا ہے۔یہود بھی ہمیشہ خشکی میں رہتے ہیں سمندر میں سفر نہیں کرتے۔اسی طرح درجن سے زیادہ خصوصیات ایسی ہیں جو یہود میں پائی جاتی ہیں مگر وہ سب قِرَدَةً اور خنازیر کے الفاظ کے اندر خدا تعالیٰ نے بیان کر دیں۔اگر قرد اور خنازیر کے الفاظ اللہ تعالٰی استعمال نہ کرتا اور الگ الگ ان کی خصوصیات بیان کرتا تو اس کے لئے ایک مکمل سورۃ چاہئے تھی۔اب رہے خَنَازِیر تو خَنَازِیر میں بھی کئی عیب ہیں۔مثلاً ایک عیب تو یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سیدھا جاتا ہے رستہ نہیں بدلتا حتی کہ حملہ بھی کرتا ہے تو سیدھا کرتا ہے۔یہود میں بھی یہ عیب پایا جاتا ہے وہ بھی اپنی زندگی کے شعبے تبدیل نہیں کر سکتے۔اسی طرح خنزیر میں گندگی پائی جاتی ہے اور یہود بھی حد درجہ گندے ہوتے ہیں۔پھر بعض امراض بھی خنزیر میں ہوتی ہیں جو یہودیوں میں بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں مگر میں اُن کا ذکر نہیں کرتا۔تیسرے تشبیہہ اور استعارہ کی ضرورت تبعید کے لئے ہوتی ہے یعنی مضمون کو اونچا کر دینا اور نظر کو وسیع کر دینا استعارہ کا مقصود ہوتا ہے۔مثلاً یہ استعارہ تھا کہ خواب میں حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین اور بھائیوں کو سورج، چاند اور ستاروں کی صورت میں دیکھا۔اب خالی بھائی کہہ دینے سے وہ مضمون ادا نہ ہوتا جو ستاروں میں ادا ہوا ہے یا جیسے سورج اور چاند کے الفاظ میں ادا ہوا ہے کیونکہ سورج، چاند اور ستارے ایک وسیع مضمون رکھتے ہیں۔مثلاً یہی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بتادیا تھا کہ تیرے بھائی با وجود اس کے کہ اس وقت تیرے مخالف ہیں اور ان کی عملی حالت اچھی نہیں اللہ تعالیٰ ان کی اولادوں سے دنیا کی ایسی ہی راہنمائی کرے گا جس طرح ستارے راہنمائی کرتے ہیں۔اب یہ ایک وسیع مضمون تھا جو بھائی کہہ کر ادا نہیں ہوسکتا تھا مگر ستارے کہہ کر ادا ہو گیا۔چوتھے تقریب مضمون کے لئے بھی استعارہ ضروری ہوتا ہے۔یعنی بعض دفعہ مضمون اتنا