فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 434

فضائل القرآن — Page 23

فصائل القرآن نمبر۔۔۔(۸) قرآن کریم کی اصلیت پر صرف زید گواہ ہے۔مگر اس کا تو فرض تھا کہ قرآن لکھے۔اس پر بھروسہ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔(۹) اگر حضرت ابوبکر کے وقت کے قرآن کی کاپی درست تھی تو پھر حضرت عثمان کے زمانہ میں دوبارہ لکھوانے کی کیا ضرورت تھی۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ کی کا پیوں کو غلط سمجھا گیا۔(۱۰) حضرت عثمان پر الزام لگایا گیا ہے کہ جب وہ خلیفہ ہوئے تو بہت سے قرآن تھے۔لیکن جب وہ فوت ہوئے تو پیچھے صرف ایک قرآن چھوڑا۔اس سے معلوم ہوا کہ اختلاف والے قرآنوں کو جلا دیا گیا تھا۔مخالفین کے اعتراضات کے جوابات اب میں ان اعتراضوں کا جواب دیتا ہوں۔23 23 پہلا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم سنا تھا کہ ہم کو اتنے کاموں اور شورشوں میں قرآن کریم یاد کس طرح رہ سکتا تھا۔یہ ایسا سوال ہے کہ اس کا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ ایک واقعہ کو کس طرح جھٹلایا جا سکتا ہے۔جب واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم آپ کو یا د رہا اور شب و روز نمازوں میں سنایا جاتا رہا تو اس کا انکار کس طرح کیا جا سکتا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میرے سامنے پروفیسر مارگولیتھ نے یہ اعتراض کیا کہ اتنا بڑا قر آن کس طرح یا درہ گیا۔میں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو قرآن اترا تھا اور آپ کے سپر د ساری دنیا کی اصلاح کا کام کیا گیا تھا آپ اسے کیوں یاد نہ رکھتے ؟ میرے ایک لڑکے نے گیارہ سال کی عمر میں قرآن یاد کر لیا ہے۔اور لاکھوں انسان موجود ہیں جنہیں سارے کا سارا قرآن یاد ہے۔جب اتنے لوگ اسے یاد کر سکتے ہیں تو کیا وہی نہیں کر سکتا تھا جس پر قرآن نازل ہوا تھا۔دوسرا اعتراض یہ ہے کہ عرب کے لوگوں کا حافظہ اچھانہ تھا، کیونکہ وہ پرانی نظموں میں اختلاف کرتے ہیں۔اس کے متعلق اول تو میں کہتا ہوں کہ یہ شتر مرغ والی مثال ہے۔ایک طرف تو کہا جاتا ہے کہ عربوں کو پرانے قصیدے یاد ہوتے تھے جن میں اختلاف ہوتا تھا۔اور دوسری طرف