فضائل القرآن — Page 352
352 فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ موعود علیہ السلام کی کتابیں بھی۔انہیں ایک دوسرے کے مقابل میں رکھ کر دیکھ لو کوئی بھی ان میں نسبت ہے؟ انہوں نے تو اپنی کتابوں میں صرف بائیبل کے حوالے جمع کئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے وہ معارف پیش کئے ہیں جو تیرہ سو سال میں کسی مسلمان کو نہیں سو مجھے اور ان معارف اور علوم کا سینکڑ واں بلکہ ہزارواں حصہ بھی ان کی کتابوں میں نہیں۔الہامی کتاب کے سمجھنے میں ایک دقت میرا آج کا مضمون اس بات پر ہے کہ ہر الہامی کتاب میں بعض ایسے مشکل مضامین ہوتے ہیں جن کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ آسانی سے حل نہیں ہوتے یا ان سے متعلق آپس میں بحث شروع ہو جاتی ہے۔کوئی کہتا ہے اس کا یہ مطلب ہے اور کوئی کہتا ہے اِس کا وہ مطلب ہے۔ایسی صاف بات نہیں ہوتی جیسے مثلاً یہ حکم ہے کہ آقِیمُوا الصَّلوةَ نماز قائم کرو۔جو شخص عربی جانتا اور اسلام سے واقفیت رکھتا ہے وہ آقِیمُوا الصَّلوةَ سنتے ہی فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ نماز قائم کرو۔یہ جھگڑا پیدا نہیں ہوتا کہ آقِیمُوا الصَّلوةَ سے مراد نماز نہیں روزہ ہے یا روزہ نہیں حج ہے۔آگے نماز کی کیفیات میں فرق ہو سکتا ہے، خشوع خضوع میں فرق ہوسکتا ہے ، عرفان میں فرق ہو سکتا ہے مگر اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ نماز قائم کرو بلکہ جونہی کسی کے منہ سے یہ فقرہ نکلے گا کہ آقِیمُوا الصَّلوةَ یا قرآن کریم میں یہ حکم دیکھے گا فوراً سمجھ جائے گا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نمازیں پڑھو مگر جو مشکل مسائل ہوتے ہیں اُن کو بعض لوگ سمجھتے ہیں اور بعض نہیں سمجھتے اور اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ جو باخبر ہیں انہیں وہ مسائل سمجھا ئیں۔خواہ اس وجہ سے کہ وہ خود غور نہیں کرتے یا اس وجہ سے کہ ان کا دل کسی گناہ کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا فضل جذب کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔مشکل مضامین بالعموم دو طرح کے ہوتے ہیں ایک علمی مضامین جو بار یک فلسفے پر مبنی ہوتے ہیں مثلاً توحید ہے اس کا اتنا حصہ تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ خدا ایک ہے مگر آگے یہ صوفیانہ باریکیاں کہ کس طرح انسان کے ہر فعل پر خدا تعالیٰ کی توحید کا اثر پڑتا ہے اس کے لئے ایک عارف کی ضرورت ہوگی اور یہ مسائل دوسرے کو سمجھانے کے لئے کوئی عالم درکار ہوگا۔ہر شخص یہ باریکیاں نہیں نکال سکتا لیکن