فضائل القرآن — Page 351
فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 351 چاہتی ہے لیکن اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ پہلی خواہش بھی پوری ہو جائے تو دشمنوں کا یہ اعتراض مٹ جاتا ہے کہ آپ نے براہین احمدیہ کو مکمل نہیں کیا اور وعدہ کے باوجود قرآن کریم کی فضیلت کے تین سو دلائل پیش نہیں کئے۔براہین احمدیہ اور مولوی چراغ علی صاحب حیدرآبادی آج کل تو زمیندار اور احسان وغیرہ مخالف اخبارات یہ بھی لکھتے رہتے ہیں کہ کوئی مولوی چراغ علی صاحب حیدر آبادی تھے وہ آپ کو یہ مضامین لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔جب تک اُن کی طرف سے مضامین کا سلسلہ جاری رہا آپ بھی کتاب لکھتے رہے مگر جب انہوں نے مضمون بھیجنے بند کر دیئے تو آپ کی کتاب بھی ختم ہوگئی۔گو یہ مجھ میں نہیں آتا کہ مولوی چراغ علی صاحب کو کیا ہوگیا کہ انہیں جو اچھا نکتہ سوجھتا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھ کر بھیج دیتے اور ادھر ادھر کی معمولی باتیں اپنے پاس رکھتے۔آخر مولوی چراغ علی صاحب مصنف ہیں۔براہین احمدیہ کے مقابلہ میں اُن کی کتابیں رکھ کر دیکھ لیا جائے کہ آیا کوئی بھی ان میں نسبت ہے؟ پھر وجہ کیا ہے کہ دوسرے کو تو ایسا مضمون لکھ کر دے سکتے تھے جس کی کوئی نظیر ہی نہیں ملتی اور جب اپنے نام پر کوئی مضمون شائع کرنا چاہتے تو اُس میں وہ بات ہی پیدا نہ ہوتی۔پس اول تو انہیں ضرورت ہی کیا تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مضمون لکھ لکھ کر بھیجتے ؟ اور اگر بھیجتے تو محمدہ چیز اپنے پاس رکھتے اور معمولی چیز دوسرے کو دے دیتے۔جیسے ذوق کے متعلق سب جانتے ہیں کہ وہ ظفر کونظمیں لکھ لکھ کر دیا کرتے تھے مگر دیوان ذوق اور دیوانِ ظفر آج کل دونوں پائے جاتے ہیں۔انہیں دیکھ کر صاف نظر آتا ہے کہ ذوق کے کلام میں جو فصاحت اور بلاغت ہے وہ ظفر کے کلام میں نہیں۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ ظفر کو کوئی چیز دیتے بھی تھے تو اپنی بچی ہوئی دیتے تھے اعلیٰ چیز نہیں دیتے تھے حالانکہ ظفر بادشاہ تھا۔غرض ہر معمولی عقل والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر مولوی چراغ علی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مضامین بھیجا کرتے تھے تو انہیں چاہئے تھا کہ معرفت کے عمدہ عمدہ سکتے اپنے پاس رکھتے اور معمولی علم کی باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کولکھ کر بھیجتے مگر مولوی چراغ علی صاحب کی کتابیں بھی موجود ہیں اور حضرت مسیح