فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 434

فضائل القرآن — Page 353

فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 353 اتنی بات ضرور سمجھ لے گا کہ قرآن دوسرے خدا کا قائل نہیں۔دوسرے یہ مشکلات ایسے مطالب سے متعلق پیدا ہوتی ہیں جو علمی تو نہ ہو مگر وہ اُس زبان میں بیان کئے گئے ہوں جسے تشبیہہ اور استعارہ کہتے ہیں۔استعارات کو حقیقت قرار دینے کا نتیجہ استعارہ میں جب بھی بات کی جائے تو گو وہ بار ایک نہیں ہوتی مگر عوام الناس اُس زبان کو نہ جاننے کی وجہ سے اس کے ایسے معنی کر لیتے ہیں جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک واقعہ پیش آیا۔جب شام کی جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ کو سالار لشکر بنا کر بھیجا اور فرمایا کہ اگر زید مارے جائیں تو جعفر بن ابی طالب کمان لے لیں اور اگر جعفر مارے جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ کمان لے لیں تو جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ویسا ہی وقوع میں آیا اور حضرت زید اور حضرت جعفر اور حضرت عبداللہ تینوں شہید ہو گئے اور حضرت خالد بن ولید لشکر کو اپنی کمان میں لے کر بحفاظت اُسے واپس لے آئے۔جس وقت مدینہ میں یہ خبر پہنچی تو جن عورتوں کے خاوند مارے گئے تھے یا جن والدین کے بچے اس جنگ میں شہید ہوئے تھے اُنہوں نے جس حد تک کہ شریعت اجازت دیتی ہے رونا شروع کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اظہار افسوس کے لئے نہ اس لئے کہ عورتیں جمع ہو کر رونا شروع کر دیں فرمایا۔جعفر" پر تو کوئی رونے والا نہیں۔میرے نزدیک اس فقرہ سے آپ کا یہ منشا ہر گز نہیں تھا کہ کوئی جعفر کو روئے بلکہ مطلب یہ تھا کہ ہمارا بھائی بھی آخر اس جنگ میں مارا گیا ہے جب ہم نہیں روئے تو تمہیں بھی صبر کرنا چاہئے کیونکہ حضرت جعفر کے رشتہ دار وہاں یا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے یا حضرت علی تھے اور یہ جس پایہ کے آدمی تھے اس کے لحاظ سے ان کی چیخیں نہیں نکل سکتی تھیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غالبا اس بات کے اظہار کے لئے کہ میرا بھائی جعفر" بھی مارا گیا ہے مگر میں نہیں رویا فرما یا جعفر" پر تو کوئی رونے والا نہیں۔انصار نے جب یہ بات سنی تو چونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو پورا کرنے کا بے حد شوق رکھتے تھے اس لئے انہوں نے اپنے اپنے گھر جا کر عورتوں سے کہنا شروع کیا کہ یہاں رونا