فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 434

فضائل القرآن — Page 334

فصائل القرآن نمبر ۵۰ 334 چاہئیں۔اس لئے ہم ہی سامان پیدا کرتے ہیں کیونکہ حکیم اور خبیر ہستی ہی قواعد تجویز کر سکتی ہے۔اسی بنا پر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ روحانی راہنما کے لئے طبیب ہونا بھی ضروری ہے ورنہ ممکن ہے وہ دوسروں کو ایسی باتیں بتادے جو انسانی صحت کے لئے سخت مضر ہوں۔دوسرا وسوسہ خدا تعالیٰ کے کلام کے متعلق یہ تھا کہ کہتے تھے کہ خدا کلام تو اُتارتا ہے مگر الفاظ میں نہیں بلکہ دل میں خیال پیدا کر دیتا ہے۔آج کل یہ غلطی برہمو سماج کونگی ہوئی ہے بلکہ مسیحیوں، یہودیوں اور ہندوؤں کو بھی لگی ہوئی ہے۔وہ کہتے ہیں کیا خدا تعالیٰ کا منہ اور زبان ہے کہ وہ الفاظ で بولتا ہے؟ اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ خدا لیس کمثلہ شیئ ہے جس طر وہ بے کان کے سنتا ہے۔بے آنکھ کے دیکھتا ہے۔اسی طرح بے زبان کے کلام بھی کر سکتا ہے اور یہ معترض خدا تعالیٰ کے دیکھنے اور سننے کی طاقت کو تسلیم کرتے ہیں پھر اعتراض کیسا۔یہ الزامی جواب ہے۔حقیقی جواب یہ دیا کہ وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَى بَشَرٍ مِنْ شَيْءٍ قُلْ مَنْ أَنْزَلَ الْكِتَبَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى نُورًا وَهُدًى لِلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهُ قَرَاطِيْسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا وَعُلِّمْتُمْ قَالَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلَا أَبَاؤُكُمْ قُلِ اللهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمُ يَلْعَبُونَ " فرمایا۔اِن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی طاقتوں کا صحیح اندازہ نہیں لگایا۔جب انہوں نے یہ بات کہی کہ کسی بندہ پر اُس نے کلام نازل نہیں کیا اگر نہیں نازل کیا تو موسیٰ پر کس نے کتاب نازل کی تھی ؟ جس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہوں نے کچھ چھپائے اور کچھ ظاہر کئے۔پھر وہ کون ایسی باتیں سکھاتا ہے جو اُن کے باپ دادے بھی نہیں جانتے تھے۔کہو اللہ ہی سکھاتا ہے۔پھر اُن کو چھوڑ دے تاکہ لغو باتوں میں لگے رہیں۔یہ منکرین کلام کا رڈ کیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ کی مثال دی گئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہود کا یہ خیال تھا کہ اور نبیوں سے تو رویا وغیرہ کے ذریعہ سے کلام ہوا ہے یا وحی خفی قلبی سے لیکن حضرت موسیٰ سے کلام الفاظ میں ہوا۔چنانچہ گنتی باب ۱۲ آیت ۱ ، ۲ میں لکھا ہے کہ ہارون اور مریم نے شکوہ کیا کہ موسیٰ نے کوشی عورت سے کیوں شادی کی۔وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے۔حالانکہ خدا جس طرح اس سے باتیں کرتا ہے ہم سے بھی کرتا ہے۔اس پر خداوند ناراض ہوا اور انہیں موسی سمیت بلوایا اور کہا ”میری باتیں سنو اگر تم میں سے کوئی نبی ہوتا تو میں جو خداوند ہوں اپنے تئیں رویا میں