فضائل القرآن — Page 335
فصائل القرآن نمبر ۵۰ 335 اسے معلوم کرواتا اور اس سے خواب میں باتیں کرتا۔پر میرا بندہ موسئی ایسا نہیں ہے کہ وہ میرے سارے گھر میں امانت دار ہے۔میں اس سے آمنے سامنے صریح باتیں کرتا ہوں اور نہ کہ پوشیدہ باتیں ،۱۱۵ بنی اسرائیل کے نزدیک اس قسم کا کلام حضرت موسیٰ سے پہلے نبیوں کی نسبت سے ہی نہیں ہوا بلکہ بعد میں بھی جو نبی آئے اُن سے بھی یہی فرق کیا جاتا۔چنانچہ استثنا باب ۳۴ میں حضرت موسیٰ کی وفات کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے:۔اب تک بنی اسرائیل میں موسی کی مانند کوئی نبی نہیں اُٹھا۔جس سے خدا وند آمنے سامنے آشنائی کرتا۔قرآن کریم نے بھی حضرت موسیٰ کا کچھ امتیاز تسلیم کیا ہے کیونکہ قرآن کریم میں نبیوں کے ذکر میں آتا ہے۔وَكَلَّمَ اللهُ مُوسى تَكْلِيما لے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے خوب اچھی طرح کلام کیا۔تكليما آمنے سامنے کلام کرنے کو کہتے ہیں۔بائیبل میں بھی عام طور پر نبیوں کی رؤیا بیان ہوئی ہیں۔اس سے آہستہ آہستہ یہود میں بھی جیسا کہ مسلمانوں میں سے بعض میں ہوا یہ خیال پیدا ہو گیا کہ الہام قلبی ہوتا ہے نہ کہ لفظی مسیحی آج تک اس خیال کی بنا پر قرآن کریم پر اعتراض کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ موسی" پر لفظی الہام نازل ہوا۔پس اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ باقی نبیوں کو چھوڑو۔موسیٰ کی نسبت الفاظ میں وحی کا دعوی موجود ہے یا نہیں اور جو حضرت موسیٰ کو ماننے والے نہیں ہیں جیسے ہندو اور برہمو سماج والے اُن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَعُلِّمْتُم مَالَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ تم قلبی و حیاں کہتے ہو یہ تو شروع سے چلی ہی آتی ہیں مگر کیا کوئی ایسی وحی ہے جو اس علم کو بیان کرے جو قرآن کریم میں ہے۔پس اگر باوجود اپنے قلبی القاؤں کے تم قرآنی علوم سے بے بہرہ رہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ہم نے وہ وہ باتیں سکھا دیں جو تمہارے باپ دادوں کو بھی معلوم نہ تھیں تو تم کس طرح حقیقی الہام کی افضلیت اور ضرورت کا انکار کر سکتے ہو۔