فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 434

فضائل القرآن — Page 333

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 333 الهدی " یا در کھوڑوحانی معاملات میں آپ ہی رستہ نہیں بنایا جاسکتا۔صرف اللہ ہی یہ رستہ دکھا سکتا ہے۔آگے اس کی وجہ بیان کرتا ہے۔فرماتا ہے : قَولُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ اُس کی بات ہو کر رہنے والی ہے اور جس دن صور پھونکا جائے گا حکومت صرف اُسی کو حاصل ہوگی۔وہ پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے اور ظاہر کو بھی جانتا ہے وہ حکمت والا اور خبر دار ہے۔ط اس آیت میں مندرجہ ذیل دلائل دیئے گئے ہیں :- اول یہ کہ خدا کا کلام غلطی سے پاک ہوتا ہے اور ہدایت کے لئے غلطی سے پاک ہونا ضروری ہے۔دنیوی امور کے متعلق تو ہو سکتا ہے کہ ایک غلط بات بھی مان لی جائے اور اس کا کچھ نقصان نہ ہو۔مثلاً باپ دادا پانی کو مفرد مانتے آئے تو اس سے کوئی نقصان نہ ہوالیکن اگر خدا تعالیٰ کے متعلق غلطی کی جائے اور خدا کو ایک نہ مانیں تو اس کا نتیجہ جہنم ہوگا۔اس لئے ضروری ہے کہ روحانی ہدایت خدا ہی دے تاکہ وہ غلطی سے پاک ہو نہ کہ تجربہ سے حاصل کی جائے۔دوم۔جس مقصد کے لئے کلام الہی کی ضرورت ہے یعنی ما بعد الموت ترقیات روحانی ان کے اسرار خدا تعالیٰ کو ہی معلوم ہیں۔پس اس منزل کے لئے جس کا علم انسان کو نہیں وہ کیونکر اپنے لئے قوانین بنا سکتا ہے؟ چونکہ اس دنیا میں جو تم عمل کرتے ہو اُس کی غرض ابدی زندگی میں ایسی طاقت کا حاصل ہونا ہے جس سے کہ وہاں کام کر سکو اور تمہیں پتہ ہی نہیں کہ اگلے جہان کی کیا حالت ہے تو اُس کے لئے سامان کس طرح مہیا کر سکتے ہو۔اُس ملک پر صرف خدا کا تصرف ہے اس لئے خدا ہی اس سے متعلق سامان کی تیاری کر سکتا ہے۔سوم۔یہ کہ وہ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ہے وہ ظاہری اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔اگلے جہان کو جانے دو۔اسی جہان کو دیکھ لو۔تمہاری فطرت میں بڑی بڑی طاقتیں ہیں مگر انسان خود اُن کو نہیں جانتا۔یہ سب باتیں خدا ہی جانتا ہے۔اس لئے ترقی کے سامان بھی وہی کر سکتا ہے۔اس کے سوا کوئی اور یہ کام نہیں کرسکتا۔چہارم یہ کہ وہ علیم و خبیر ہے۔جہاں اُسے انسانی طاقتوں کا علم ہے وہاں وہ انسانی کمزوریوں کا بھی علم رکھتا ہے۔اس لئے فرماتا ہے چونکہ ہم ہی جانتے ہیں کہ کیا کیا طریق تمہیں بتانے