فضائل القرآن — Page 330
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 330 نہیں کیا بلکہ بچہ پیدا ہی اس خوراک سے ہوتا ہے جو تم کھاتے ہو اور جو چیزیں کھائی جاتی ہیں ان کو خدا نے پیدا کیا ہے۔فرمایا۔اللہ خَالِقَ كُلّ شَیءٍ اللہ تعالیٰ کا ہر چیز کا خالق ہونا دلیل ہے اس بات کی کہ اور کوئی خدا نہیں ہے۔(۲) دوسری دلیل یہ دی که وَهُوَ عَلى كُلّ شَیءٍ وکیل خدا ہی سب چیزوں کا محافظ ہے یعنی سب چیزوں کی حفاظت ایک قانون کے ماتحت ہے۔مثلاً کسی کا بیمار بیٹا اچھا ہوتا ہے تو اگر وہ یونہی اچھا ہو جاتا تو کہا جاتا کہ اس کو اچھا کرنے والا کوئی اور ہے اور سورج چاند کو بنانے والا کوئی اور مگر اب چونکہ اچھا کرنے میں سورج چاند کا بھی دخل ہے اس لئے ماننا پڑے گا کہ جس نے سورج چاند پیدا کئے اُسی نے اچھا کیا۔(۳) تیسری دلیل یہ دی کہ تمام ضرورتیں روحانی و جسمانی اُسی سے پوری ہو سکتی ہیں۔فرمایا لهُ مَقَالِيدُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ آسمانوں اور زمین کی گنجیاں اُسی کے ہاتھ میں ہیں۔جب انسان کی ساری ضروریات خواہ وہ جسمانی ہوں یا رُوحانی خدا ہی پوری کرتا ہے تو پھر عزیر کیسوع اور ملک صدق وغیرہ کی ضرورت نہ رہی۔کسی اور خدا کی کیا ضرورت رہی کہ اُس کو معبود قرار دیا جائے۔(۴) چوتھی دلیل یہ دی کہ خدا کی توحید کے مؤید ہمیشہ جیتتے اور دشمن نا کام ہوتے ہیں فرمایا۔وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِأَيْتِ اللهِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُون جو لوگ توحید کے منکر ہوتے ہیں وہ توحید کے ماننے والوں کے مقابلہ میں ہارتے ہیں۔یہ عملی ثبوت ہے خدا کی توحید کا۔پس شرک فی الذات اور شرک فی الصفات دونوں غلط ہیں۔جہاں بعض لوگوں نے مشرکانہ خیالات سے توحید میں نقص پیدا کیا ہے۔وہاں بعض لوگ توحید کے شوق میں وحدۃ الوجود کے قائل ہو گئے اور ذرہ ذرہ کو خدا بنا دیا۔قرآن کریم نے اس کی بھی تردید کی ہے۔ان لوگوں نے اپنی طرف سے توحید کی تائید کی تھی اور کہا تھا کہ اگر خدا تعالیٰ کے سوا کوئی اور وجود تسلیم کریں تو اس سے شرک لازم آتا ہے مگر انہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ اس طرح انہوں نے ہر چیز کو خدا قرار دے دیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی رڈ کیا ہے اور وہ اس طرح کہ فرمایا۔وَلَا تَدْعُ مَعَ اللهِ الهَا أَخَرَم لَا إلهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ عنا فرمایا۔تم کہتے ہو کہ سب کچھ خدا ہی خدا ہے مگریہ نہیں دیکھتے کہ ہر وہ چیز جو پیدا ہوئی ہے ہلاک ہوتی ہے اگر