فضائل القرآن — Page 331
فصائل القرآن نمبر ۵ 331 یہ سب کچھ خدا ہے تو تغیر پذیر نہیں ہو سکتا لیکن اس کا تغیر پذیر ہونا خود ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ خدا کا حصہ نہیں کیونکہ اگر حصہ میں تغیر ہو سکتا ہے تو کل میں تغیر بھی لازمی ہے۔اس طرح قرآن کریم نے انسانوں پر جو لعنتیں کی ہیں ان سے بھی وحدۃ الوجود والوں کی تردید ہوتی ہے۔لعنت کے معنے دور کئے جانے کے ہیں اگر ہر چیز خدا کا حصہ ہے تو ایسے لوگوں کو ڈور کیوں کیا گیا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ بختی کی گئی ہے مگر اس طرح وحدۃ الوجود کی جڑ کاٹ دی گئی ہے۔اگر ہم یہ مان لیں کہ ہر چیز خدا کا حصہ ہے تو کہنا پڑے گا کہ نعوذ باللہ اس کے حصے نہایت گندے اور ناپاک ہیں مگر یہ خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے اگر وحدۃ الوجود والوں کو کہیں کہ تم تو اچھے ہو مگر تمہارا دل بڑا نا پاک ہے تو لڑ پڑیں گے مگر خدا تعالیٰ کا جن چیزوں کو جز و قرار دیتے ہیں اُن کے متعلق کہتے ہیں کہ گندی ہیں۔بعض لوگوں نے اُن کے برعکس یہ نظریہ قائم کیا کہ دنیا کو خدا سے بالکل جدا کر دیا اور کہہ دیا کہ خدا عرش پر ہے اور دنیا اس سے بالکل الگ ہے۔وہ مخلوق سے بالکل جدا آسمان پر قائم ہے اور وہاں سے دنیا پر حکومت کر رہا ہے۔یہ نظریہ موحد یہود اور موحد زرتشتیوں کا ہے اور بد قسمتی سے اہلحدیث کا بھی ہے۔اسلام نے اسے بھی رڈ کیا ہے فرماتا ہے۔هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِیمٌ۔نا یعنی اللہ ہی اول ہے اور اللہ ہی آخر ہے۔وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔عرش پر الگ تھلگ بیٹھنے والا تو اول۔آخر اور ظاہر۔باطن نہیں ہو سکتا اور نہ ہر چیز کو جاننے والا ہوسکتا ہے۔پھر فرمایا۔وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (ق: آیت ۱۷) ہم انسان سے اُس کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔اب جب تک وہ سارے جسم پر تصرف نہ کرے رگ جان کے کس طرح قریب ہوسکتا ہے۔غرض اسلامی تعلیم یہ ہے کہ نہ تو ہر شئے خدا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کسی خاص مقام پر محصور ہے۔چونکہ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ ہر انسان اسے سمجھ نہ سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ ہر جگہ بھی ہے اور پھر الگ بھی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب اور اعتراضوں کے جواب کے سلسلہ میں یہ دیا کہ کیس كَمِثْلِهِ شَيْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ نا فرمایا یہ اعتراض جہالت کا نتیجہ ہے۔مخلوقات کے