فضائل القرآن — Page 320
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰ 320 ید اخبار ایسی ہیں کہ جو ایک وقت میں نہیں دی گئیں۔ایک وقت میں ان کے سامان نہیں پیدا کئے گئے۔قوموں اور شہروں کا زندہ رہنا ہزاروں سال کے طبعی تصرفات کا نتیجہ ہے۔ایک خاص حلیہ کے شخص کا پیدا ہونا خاص علم الحیوانات کا نتیجہ ہے۔دشمنوں اور دوستوں کے دل میں ان خیالات کا پیدا ہونا جو مذکور تھے خاص علم النفس کے ماتحت تغیرات کا نتیجہ ہے۔دشمنوں کا زیر ہونا خاص سیاسی تغییرات کا نتیجہ ہے۔( مسیحی کہتے ہیں کہ قیصر و کسری پہلے سے کمزور تھے۔ہم کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ آپ کی مدد کے لئے پیدائش سے بھی پہلے سامان ہو رہے تھے ) اسی طرح خاص تعلیم اور اس کی تفصیلات خاص آسمانی تو جہات کا نتیجہ ہیں۔غرض صاف طور پر یہ سلسلہ آسمانی اور زمینی بادشاہت کے ایک ہونے پر دلالت کرتا ہے اور ان سب امور کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ لِلهِ مُلْكُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ آسمانی اور زمینی بادشاہتوں کا اتحاد ایک بالا اور بالا رادہ ہستی کا ثبوت دے رہا ہے فَسُبْحَانَ اللهِ المَلِكِ القدوس۔یہ میں نے ہی نہیں کہا بلکہ حضرت مسیح ناصری بھی اس دلیل میں میرے ساتھ متفق ہیں۔چنانچہ مسیح کی یہ دُعا کہ تیری بادشاہت آئے۔تیری مراد جیسی آسمان پر ہے زمین پر بھی آئے شکر اس سے حضرت مسیح کا یہی مطلب ہے کہ ظہور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے دعا کرو کہ اس کے ذریعہ سے آسمانی بادشاہت کا ظہور زمین پر ہوگا۔اب دیکھو یسعیاہ باب ۹ تا اور حضرت مسیح کی پیشگوئی (متی باب (۲۱) کس رنگ میں پوری ہوئی۔محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ خدائے قادر ہوگا اور مالک ارض وسما ہوگا۔(یعنی باغ کا مالک ) اس کے یہی معنے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا زبر دست ثبوت اور آسمانی اور زمینی نظاموں کا ایک بالا رادہ ہستی کے ہاتھ میں ہونے کا ثبوت آپ کی ذات میں ملے گا اور اُن کے ذریعہ سے لوگ قطعی طور پر خدا تعالیٰ کی ہستی کا علم حاصل کریں گے۔پس آپ کا آنا خدا کا آنا ہوگا۔قرآن کریم کی دوسری اصولی اصلاح قرآن کریم نے جو دوسری اصلاح کی وہ خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق ہے۔چنانچہ دوسری اصولی غلطی جو دنیا میں پیدا ہوئی وہ خدا تعالیٰ کے ماننے والوں میں سے بھی اُس گروہ میں پیدا ہوئی جو خدا تعالی کو تو مانتا ہے لیکن خدا تعالی کی زندگی کا منکر ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ خدا