فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 434

فضائل القرآن — Page 321

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 321 دنیا کو پیدا کر کے اب الگ ہو گیا ہے اور اب سب تغیرات آپ ہی آپ ہورہے ہیں۔گویا نعوذ باللہ اگر خدا تعالیٰ نہ بھی رہے تو بھی دنیا چلتی رہے گی اور دنیا کے انتظام میں کوئی نقص پیدا نہیں ہوگا۔یہ وہ لوگ ہیں جو دُعا کے منکر اور ہر امر کو قانونِ قدرت کے تابع قرار دیتے ہیں۔یہ بھی ہر زمانہ میں ہوتے آئے ہیں۔اس زمانہ میں علی گڑھ میں سید احمد ایسے ہی خیالات رکھتے تھے اور اس سے پہلے بھی بہت سے لوگ ہر زمانہ میں ہوتے رہے ہیں۔جو یہ کہتے تھے کہ خدا اب دنیا کے معاملات میں کوئی دخل نہیں دیتا۔اسلام نے ان لوگوں کی غلطی کو بھی دُور کیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے : - قل اللَّهُمَّ مَلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنَ تشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ تُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيْتَ مِنَ الْحَيَّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ نا فرمایا کہو اے اللہ! تو ہی ہے جو ملک کا مالک ہے۔تو جسے چاہتا ہے بادشاہت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے لے لیتا ہے۔تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔تو دن کو رات میں اور رات کو دن میں داخل کرتا ہے۔تو زندہ کو مردہ سے اور مُردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔تو جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ نے ایک قانون بنادیا اب وہ بالکل بے دخل ہے کس طرح پیدا ہوا؟ اصل میں یہ قلت معرفت سے پیدا ہوا ہے مگر فلسفی اس کے متعلق کچھ دلائل بھی دیتے ہیں۔جو یہ ہیں :- اول اگر خدا کا تصرف قانونِ قدرت کے خلاف ہے۔تو یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ قانونِ قدرت کی غرض باطل ہو جاتی ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے قانون بنایا ہے کہ آگ جلائے اگر کوئی خدا سے دُعا کرے کہ آگ نہ جلائے اور یہ دعا قبول ہو جائے تو دنیا میں ابتری پھیل جائے گی اور کوئی ترقی نہ ہو سکے گی۔قانونِ قدرت کی اتباع اسی لئے کی جاتی ہے کہ اس کا ایک یقینی نتیجہ نکلتا ہے۔لوگ آگ جلاتے ہیں اس لئے کہ وہ جلتی ہے۔پانی پیتے ہیں اس لئے کہ پیاس بجھاتا ہے اگر کبھی پانی پینے سے شعلے نکلنے لگ جائیں تو کوئی نہ بنے۔