فضائل القرآن — Page 310
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 310 اور آپ بھی حملے کریں گے مگر دونوں صورتوں میں وہ نبی ہی جیتے گا۔اس میں یہ نہیں کہا کہ وہ جیتے گا بلکہ یہ کہا اگر یہ حملہ کرے گا تو بھی جیتے گا اور اگر دشمن تیار ہو کر حملہ کریں گے تو بھی یہی جیتے گا۔چنانچہ جنگ احزاب۔اُحد اور بدر میں دشمن چڑھ کر آ گیا مگر ان میں بھی دشمن ہی کچلا گیا اور فتح مکہ۔خیبر اور تبوک کی جنگ میں آپ گئے اور اُن میں بھی دشمن مچلا گیا۔چھٹی بات یہ بتائی گئی تھی کہ آپ تسلی دینے والے ہونگے۔اس کے متعلق یہ دیکھنا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دنیا کوتسلی کی ضرورت تھی یا نہیں ؟ اگر ضرورت تھی تو کیا ان اقوام کو اُن کے مذاہب تسلی دے سکتے تھے؟ سو اس بارے میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذاہب اپنے ماننے والوں کے لئے تسلی کا باعث نہ رہے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو سب مذاہب اس سے خالی تھے اور قلبی اطمینان ان میں سے کسی کو حاصل نہ ہوسکتا تھا۔چنانچہ کوئی قوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل گناہ کی معافی کی قائل نہ تھی۔ہندو کہتے کہ پر میشور کسی کا کوئی گناہ معاف نہیں کر سکتا۔وہ ہر چھوٹے بڑے گناہ کی سزا دیتا ہے اور انسان کو مختلف جونوں میں جانا پڑتا ہے اور سارے گناہوں کی سزا جونوں میں پڑ کر بھگت لینے کے بعد بھی پر میشور ایک نہ ایک گناہ رکھ لیتا ہے اور پھر اس کی پاداش میں نجات سے محروم کر دیتا ہے۔اس وجہ سے ہندو اپنے مذہب کے ذریعہ تسلی نہ پاسکتے تھے۔زرتشتی اور مسیحی ابدی دوزخ کے قائل تھے۔اس عقیدہ کے ماتحت جس انسان سے ایک دفعہ بھی کوئی گناہ ہو جائے وہ یہی سمجھتا تھا کہ ابدی دوزخ میں جانا پڑے گا اور اس وجہ سے وہ کبھی مطمئن نہیں ہوسکتا تھا۔یہود بھی کسی کو تسکی نہ دیتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ نجات صرف یہود کے لئے ہے باقی سب کے لئے ہلاکت ہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل دنیا کی امید کی کمر ٹوٹ چکی تھی۔کوئی مذہب ابتداء میں ہی نا امیدی کے گڑھے میں گرا دیتا۔کوئی درمیان میں لاکر منجدھار میں چھوڑ دیتا۔کوئی آخر میں ابدی دوزخ میں جھونک دیتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر سب کو تسلی دلائی۔(۱) جو گناہ کی معافی کے قائل نہ تھے، انہیں بتایا کہ تناسخ کے چکر کی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ بڑا رحیم کریم ہے۔وہ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ بِعِبَادِيَ الَّذِينَ اسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا