فضائل القرآن — Page 304
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 304 سر کو گدی تک ننگا کرنے کے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ جب وہ نبی کمزوروں کو بچانے کے لئے ایک طرف سے نکلا اور دوسری طرف سے اس کے دشمن غریبوں کو مسل ڈالنے کے خیال پر فخر کرتے ہوئے نکلے تو آپس میں جنگ ہوئی اور اس جنگ میں جو دشمنوں کا سردار تھا اُسے اُس نبی یا اس کے کسی تابع نے گردن تک ننگا کر کے اُسی کے ہتھیار سے مارڈالا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا بدر کی جنگ میں جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے کوئی ایسا واقعہ ہوا کہ کسی سردار کے سر کو اُس کی گردن تنگی کر کے گدی سے کاٹ دیا گیا ہو۔جب ہم بدر کی جنگ کا حال پڑھتے ہیں تو ہمیں لفظ بلفظ ایسا ہی ایک واقعہ ملتا ہے۔تاریخوں میں لکھا ہے جب جنگ شروع ہوئی اور صحابہ مقابل پر کھڑے ہوئے تو اُن میں دو کم سن لڑکے بھی تھے۔یہ جنگی قاعدہ ہے کہ بہادر لڑنے والے اس بات کی احتیاط رکھتے ہیں کہ اُن کے دائیں بائیں بھی بہادر ہوں تا کہ وہ پوری بے فکری سے جنگ میں نمایاں حصہ لے سکیں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ ہمارے دل کفار کی تکالیف سے بھرے ہوئے تھے اور ہم سمجھتے تھے کہ آج ان سے خوب بدلہ لیں گے مگر جب میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا کہ دولڑ کے کھڑے ہیں تو میرا دل بیٹھ گیا کہ آج کیا لڑنا ہے جبکہ دونوں پہلو اتنے کمزور ہیں لیکن ابھی یہ خیال میرے دل میں آیا ہی تھا کہ ایک لڑکے نے مجھے کہنی ماری اور میرے کان میں آہستہ سے تا کہ دوسر الر کا نہ سُن لے، کہا چچائنا ہے ابو جہل بڑا شریر ہے مسلمانوں کو بہت دُکھ دیتا ہے وہ کونسا ہے۔میں اُسے مارنا چاہتا ہوں۔وہ کہتے ہیں باوجود اس بہادری کے جو میں رکھتا تھا مجھے یہ خیال تک نہ آیا تھا کہ میں ابو جہل کو ماروں لیکن ابھی وہ لڑکا مجھ سے بات کر ہی رہا تھا کہ دوسرے نے مجھے کہنی ماری اور چپکے سے پوچھا چھا وہ ابوجہل کون ہے جو مسلمانوں کو بہت تنگ کرتا ہے۔میرا جی چاہتا ہے کہ میں اُسے ماروں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ میں ان کی بات سن کر سخت حیران ہوا۔ابھی تھوڑی سی جنگ ہوئی تھی کہ عقبہ مارا گیا اور ابو جہل کمانڈر بنا تھا۔میں نے انگلی کے اشارے سے بتایا وہ ابو جہل ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میرا اشارہ کرنا تھا کہ دونوں لڑکے چیل کی طرح چھپٹا مار کر پہرہ میں سے گذرتے ہوئے اُس پر جا پڑے اور اُسے گرا دیا۔پہرہ کے سپاہیوں نے اُن پر حملہ کیا اور ایک کا ہاتھ کاٹ دیا۔جو تسمہ سے لٹک رہا تھا۔اُس نے اُس پر پاؤں رکھ کر اُسے علیحدہ کر دیا تا کہ لڑائی میں حارج نہ ہو۔