فضائل القرآن — Page 303
فصائل القرآن نمبر ۵۰ 303 ابو جہل کے قتل کئے جانے کی پیشگوئی جو بڑی شان سے پوری ہوئی بارہویں پیشگوئی۔اب اس پیشگوئی کے درمیان کے دو فقرے جنہیں میں نے چھوڑ دیا تھا۔اُن کا ذکر کرتا ہوں اور وہ یہ ہیں۔” تو بنیاد کو گردن تک نگا کر کے شریر کے گھر کے سر کو کچل ڈالتا ہے۔تو نے اُس کے سرداروں میں سے اُسے جو عالی درجہ کا تھا اُس کے بھالوں سے مارڈالا۔“ اس پیشگوئی میں اس قدر استعارہ استعمال کیا گیا ہے کہ بظاہر مضمون کا سمجھنا مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن اگر ہم غور کریں تو معنے کھل جاتے ہیں۔یہ تو صاف بات ہے کہ بنیاد کی گردن کوئی نہیں ہوتی۔نہ شریر کے گھر کا سر کوئی ہے۔پس اس کے کوئی اور معنے کرنے ہوں گے۔سو ہم دوسرے حصہ کو دیکھتے ہیں تو اس میں اس کی تشریح موجود ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے سر سے مراد گھرانہ کا سردار ہے۔جب یہ حل ہو گیا تو اب بنیاد کی گردن کو ننگا کرنا بھی آسان ہو گیا۔اس نقطہ نگاہ سے جب اس پیشگوئی پر غور کیا جائے تو ہمیں اس کا پہلا فقرہ یہ نظر آتا ہے کہ ”بنیاد کو گردن تک ننگا کر کے شریر کے گھر کے سرکو کچل ڈالتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بنیاد کوگردن تک بنگا کرنے کے کیا معنی ہیں۔بائیبل والے کہتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیاد تک ننگا کر دے مگر جب بنیاد کا لفظ موجود تھا تو پھر گردن تک کہنے کے کیا معنے اور بنیاد کی گردن کا کوئی محاورہ نہیں ہے۔جب گردن کا ذکر ہے تو ماننا پڑے گا کہ یہ کسی انسان کے متعلق ہے اور بنیاد عام محاورہ میں اس نیچے کی چیز کو کہتے ہیں جس پر کوئی چیز رکھی ہو۔انگریزی میں Base عمارت کی بنیاد کو بھی کہتے ہیں اور سر کی جڑ کو بھی کہتے ہیں جہاں سرگردن سے ملتا ہے۔عبرانی میں Base کا لفظ ہی ہے۔پس سر کا نچلا حصہ چونکہ گردن پر رکھا ہوتا ہے اس لئے وہ بنیاد ہے اور مطلب یہ ہے کہ گردن تک نچلے حصہ کوننگا کیا جائے گا۔پھر شریر کے گھر کے سرسے مراد گھرانہ کا سردار ہے کیونکہ شریر کے گھر کا سرکوئی اور چیز نہیں ہوتی پس اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ دشمن کے قبیلہ کے سردار کے سر کو گردن تک ننگا کرے گا اور پھر ا سے جڑ سے کاٹ دے گا۔ان معنوں کی اگلے فقرہ سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔آگے آتا ہے۔تو نے اُس کے سرداروں میں سے جو عالی درجہ کا تھا اس کے بھالوں سے مارڈالا۔اس فقرہ سے معلوم ہوا کہ پہلے فقرہ میں کسی دشمن کے قتل کی کیفیت بیان ہوئی ہے۔پس بنیاد کو گردن تک ننگا کرنے کے معنے یقیناً