فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 434

فضائل القرآن — Page 305

305 فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ ابو جہل گر گیا تھا اور اُسے زخم آئے تھے مگر مرا نہ تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پوچھا کہ ابو جہل کی کوئی علامت نظر نہیں آتی تو عبد اللہ بن مسعودؓ اس کا پتہ لگانے کے لئے نکلے۔جب وہ گئے تو دیکھا کہ ابو جہل گرا پڑا ہے۔انہوں نے اُسے کہا اے دشمن خدا! آج بھی تو ذلیل ہوا ہے یا نہیں۔اُس نے جواب دیا ایک سردار قوم کو اس کی قوم مار دے تو اس میں کیا ذلت ہے۔انہوں نے اس پر حملہ کیا لیکن چونکہ اُن کی تلوار چھوٹی تھی اور اُس کے پاس بھی تلوار تھی۔اس لئے کامیاب نہ ہو سکے۔آخر اُس کے ہاتھ پر اُن کی تلوار لگی اور اُس کی تلوار گر گئی۔انہوں نے اُس کی تلوار اُٹھالی اور اُسے مارنے لگے۔اُس نے کہا دیکھ میں سردار قوم ہوں۔میری گردن لمبی کر کے کاٹنا۔تا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اسے دیکھ کر ڈرے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو اس سے اور زیادہ غصہ آیا۔انہوں نے پیچھے سے ہو کر اُس کی گردن پکڑ لی اور اُس کا خود اٹھا کر سر کے عین نیچے سے اُس کی گردن کو نگا کیا اور اُسی کی تلوار سے اُس کا سرکاٹ دیا اور اس طرح اُس کی آخری خواہش بھی پوری نہ ہوئی اور حبقوق نبی کی یہ پیشگوئی کہ تو بنیاد کوگردن تک نگا کر کے شریر کے گھر کے سرکو کچل ڈالتا ہے۔" تو نے اُس کے سرداروں میں سے اُسے جو عالی درجہ کا تھا اُسی کے بھالوں سے مارڈالا۔لفظالفظ پوری ہوئی۔اب دو سوال باقی رہتے ہیں۔ایک یہ کہ پیشگوئی میں ہے کہ تو نے دشمن کو مارا لیکن مارا عبداللہ بن مسعودؓ نے۔اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کے متبع کا کام در حقیقت رسول کا ہی ہوتا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ پیشگوئی میں بھالا آیا ہے مگر عبد اللہ بن مسعودؓ نے تلوار سے مارا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اُردو بائیبل میں بھالا لکھا ہے۔انگریزی میں ٹیڑھی لکڑی۔فارسی میں سونا اور عربی میں تیر۔اس اختلاف سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل عبرانی لفظ کے معنے نہ بھالا ہیں۔نہ تیر۔نہ سونٹا بلکہ ہتھیار کے ہیں جس کا ترجمہ مختلف متر جموں نے مختلف کر دیا ہے۔یہ میرا خیال ہی نہیں بائیبل کا ایک مفتر بھی تفسیر بائیبل میں لکھتا ہے :- This were better translated thou didst smite through with his own weapons the head of his chieftains۔