فضائل القرآن — Page 302
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 302 ج ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس ظالم بستی سے نکال اور ہماری امداد کے لئے کسی کو کھڑا کر۔آگے فرماتا ہے۔فَقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ لَا تُكَلِّفُ إِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِضِ الْمُؤْمِنِينَ : عسى الله أن يَكْفَ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَاللهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيْلًا ۲ یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نکل کھڑا ہو۔کوئی اور جائے یا نہ جائے تو چل۔ہاں مسلمانوں کو تحریص دلا اگر وہ شامل ہو جائیں تو ثواب کے مستحق ہونگے نہیں تو عذاب کے مگر تو ضرور چل۔ط اس پیشگوئی میں یہ بھی ذکر تھا کہ وہ فخر سے نکلے اور چوری چھپے کمزوروں پر حملہ کر کے انہیں تباہ کرنے کا ارادہ کیا۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بطرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللہ کے یعنی اے مسلمانو! بدر کے موقعہ پر نکلنے والے کفار کی طرح نہ بنو۔جو اتراتے ہوئے نکلے تھے۔پھر وہ ظاہر کچھ دکھاتے تھے اور اندر سے اُن کی نیت اور تھی۔ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ ایک قافلہ کو بچانے چلے ہیں مگر اُن کی نیت مدینہ منورہ کو تباہ کرنے کی تھی۔بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ قافلہ کو لوٹنے کے لئے نکلے تھے اگر یہی بات تھی اور کفار اس قافلہ کو بچانے چلے تھے تو پھر اس کا کیا مطلب کہ وہ تکبر کرتے نکلے اور پھر یہ کہ کہتے کچھ تھے اور اُن کا اندرونی منشاء کچھ اور تھا۔وہ چاہتے یہ تھے کہ اسلام کو نقصان پہنچا ئیں۔بھلا قافلہ کو بچانے سے اسلام کو کیا نقصان پہنچا سکتے تھے۔یہ مجیب لطیفہ ہے کہ بائیبل کہتی ہے کہ دشمن چوری سے نکلے اور اُن کی غرض یہ تھی کہ چپکے سے اس قوم کو جو کمزور تھی تباہ کر دیں اور قرآن بھی اُن کی غرض يَصُلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللہ بیان کر کے بائیبل کی تصدیق کرتا ہے لیکن مؤرخ کہتے ہیں کہ کفار صرف اپنے ایک قافلہ کو بچانے کی غرض سے نکلے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قافلہ کو لوٹنے کے لئے آئے تھے۔بائیبل اور قرآن دونوں کا بیان ایک ہے اور مؤرخ جو کچھ کہتے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔کفار نے قافلہ کو بچانے کا صرف بہانہ بنایا تھا۔ان کی غرض مدینہ پر حملہ کرنا تھی تاکہ مسلمانوں کو تباہ کر دیں۔