فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 434

فضائل القرآن — Page 293

فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔۵ مقرر کر دی گئی ہے کہ جسے طاقت ہو وہ اس بستی میں جائے اور حج کرے کہ یہ بستی مطلوبہ ہے۔حبقوق نبی کی پیشگوئی پھر ہم اور آگے چلتے ہیں۔تو حبقوق نبی فرماتے ہیں :- 293 ”خدا تیمان سے اور وہ جو قدوس ہے کوہ فاران سے آیا۔سلاہ اس کی شوکت سے آسمان چھپ گیا اور زمین اس کی حمد سے معمور ہوئی۔مری اس کے آگے آگے چلی اور اُس کے قدموں پر آتشی و باروا نہ ہوئی۔وہ کھڑا ہوا اور اُس نے زمین کولر ز ادیا۔اس نے نگاہ کی اور قوموں کو پراگندہ کر دیا اور قدیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے اور پرانی پہاڑیاں اس کے آگے دھنس گئیں۔اُس کی قدیم را ہیں یہی ہیں۔میں نے دیکھا کہ کوشان کے خیموں پر بہت تھی اور زمین مدیان کے پردے کانپ جاتے تھے۔سورج اور چاند اپنے اپنے مکان میں ٹھہر گئے۔تیرے تیروں کی روشنی کے باعث جو اڑے اور تیرے بھالے کی چمکا ہٹ کے سبب تو قہر کے ساتھ زمین پر کوچ کر گیا۔تو نے نہایت غصے ہو کے قوموں کو روند ڈالا ہے۔تو اپنی قوم کو رہائی دینے کے لئے ہاں اپنی ممسوح کو رہائی دینے کے لئے نکل چلا۔تو بنیاد کوگردن تک ننگا کر کے شریر کے گھر کے سر کو کچل ڈالتا ہے۔سلاہ تو نے اس کے سرداروں میں سے اُسے جو عالی درجہ کا تھا اُسی کے بھالوں سے مار ڈالا۔وہ مجھے پراگندہ کرنے کو آندھی کی طرح نکل آئے۔اُن کا فخر یہ تھا کہ مسکینوں کو ہم چپکے نگل جاویں۔۔۔۔ہر چند انجیر کا درخت نہ پھولے اور تاکوں میں میوے نہ لگیں۔۔۔تس پر بھی خداوند کی یاد میں خوشی کرونگا۔میں اپنی نجات کے خدا کے سبب خوش وقت ہونگا۔۲۹ اس میں پہلی پیشگوئی تو یہ کی گئی ہے کہ خدا تیمان سے ظاہر ہوا۔تیمان کے معنے عبرانی مفتر جنوب کی سرزمین کے کرتے ہیں اور عرب فلسطین سے جنوب کی طرف ہی ہے لیکن عرب لوگ ایک وادی کو وادی تہامہ کہتے ہیں اور مکہ کو اس وادی تہامہ میں شامل سمجھتے ہیں۔قاموس میں لکھا ہے۔وَتِهَامَةُ بِالْكَسْرِ مَكَةٌ شَرَّفَهَا اللهُ تَعَالَى وَاَرْضُ مَّعْرُوفَةٌ۔ع یعنی تہامہ سے مراد مکہ