فضائل القرآن — Page 292
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 292 رہے گی۔یعنی اس کی عزت ہمیشہ قائم رہے گی۔گویا بتا یا کہ نہ صرف یہ گھر ہمیشہ معمور رہے گا اور کروڑوں انسان اس سے تعلق رکھیں گے بلکہ بلند و بالا لوگ تعلق رکھیں گے اور اس کی عزت قیامت تک قائم رہے گی۔غرض قرآن نے یہ خبر دی کہ بیت اللہ قائم رہے گا۔اس سے اعلیٰ درجہ کے لوگ تعلق رکھیں گے اور مکہ سے تعلق رکھنے والی کتاب کا چشمہ کبھی ختم نہ ہو گا۔چوتھی بات یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ قوم ہمیشہ مقدس کہلائے گی۔قرآن کریم کا یہ بھی دعوی ہے چنانچہ فرمایا۔بِأَيْدِى سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ ي قرآن ایسے لوگوں کے ہاتھ میں رہے گا جو بڑے معزز اور اعلیٰ درجہ کے نیکو کار ہونگے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ بعض اوقات خرابی بھی تو آسکتی ہے۔پھر یہ کتاب ہمیشہ مقدس لوگوں کے ہاتھ میں کیسے رہی۔سو قرآن نے اس کا جواب بھی دے دیا ہے کہ۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ، وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ع فرمایا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خدا نے امیوں میں رسول بنا کر بھیجا ہے۔تا کہ وہ ان کو اللہ کی آیتیں سنائے اور پاک کرے اور کتاب کی تعلیم دے اور حکمت سکھائے۔اس کے بعد جب مسلمانوں میں خرابی پیدا ہوگی تو وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم خدا اس رسول کو ایک دوسری قوم میں بھیجے گا جو ابھی تک ان سے ملی نہیں گویا یہ قوم ہمیشہ مقدس کہلائے گی کیونکہ اس میں اصلاح کرنے والے آتے رہیں گے۔پانچویں بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ خداوند کے چھڑائے ہوئے کہلائیں گے۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ (الاعراف: ۱۵۸) یعنی دنیا کی گردنوں میں طوق اور پاؤں میں زنجیریں اور بیڑیاں پڑی ہوئی ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم نے اس لئے بھیجا ہے کہ اُن بیٹریوں کو کاٹ دے اور لوگوں کو ان بندھنوں سے نجات دے۔اس طرح وہ چھڑائے ہوئے کہلائیں گے۔چھٹی بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ بستی مطلوبہ کہلائے گی۔قرآن کریم بھی فرماتا ہے وَلِلهِ عَلَی النَّاسِ سُجُ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا " یعنی قیامت تک کے لئے یہ بات