فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 434

فضائل القرآن — Page 285

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 285 سا کام ہے جس پر نیلم کے گل بنے ہوں۔اُس کے پیر ایسے جیسے سنگِ مرمر کے ستون جو سونے کے پائیوں پر کھڑے کئے جائیں۔اُس کی قامت لبنان کی سی۔وہ خوبی میں رشک سرو ہے۔اُس کا مونہہ شیرینی ہے۔ہاں وہ سرا پا عشق انگیز ہے ( عبرانی میں لکھا ہے وہ محمد تیم ہے ) اے یروشلم کی بیٹیو! یہ میرا پیارا یہ میرا جانی ہے۔۲۲ گو یا حضرت سلیمان علیہ السلام بھی اس امر کی تاکید کرتے ہیں کہ جب وہ محبوب آئے تو اُسے مان لینا اور پھر خود ہی سوال پیدا کر کے کہتے ہیں کہ اس میں یہ یہ خوبیاں ہونگی۔ان آیات میں بعض باتیں تو شاعرانہ رنگ رکھتی ہیں اور بعض رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلیہ سے قطعی طور پر ملتی ہیں۔مثلاً لکھا ہے اُس کی زلفیں پیچ در پیچ ہیں۔انگریزی بائیبل میں یہ الفاظ آتے ہیں۔His" "۔locks are wavy اور یہی حلیہ حدیثوں میں بیان ہوا ہے۔چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔لَمْ يَكُنْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّعْطِ وَبِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالْسَبَطِ كَانَ جَعَدَارَ جِلًا " یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ تو بہت لمبے قد کے تھے۔نہ بہت چھوٹے بلکہ آپ میانہ قد و قامت رکھنے والوں میں سے تھے۔اسی طرح آپ کے سر کے بال نہ تو سخت گھنگھرالے تھے جیسے کے حبشیوں کے ہوتے ہیں اور نہ ہی بالکل سیدھے تھے بلکہ اس طرح کے گھنگھرالے تھے جس طرح کنگھی کرنے سے بال نیچے سے ذرا خمیدہ ہوجائیں اور مڑ جائیں۔یہی حضرت سلیمان نے کہا کہ آپ کے بال لمبے ہونگے یعنی زلفیں ہونگی مگر بال کچھ پیچ دار ہو نگے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال کانوں کی لو تک آتے تھے۔گویا لمبے بال ہونے کے ساتھ یہ بھی پیشگوئی تھی کہ بال نہ پیچدار ہونگے اور نہ بالکل سیدھے اور یہی حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔پھر حضرت سلیمان آپ کا رنگ سُرخ و سفید بیان کرتے ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رنگ کے متعلق فرماتے ہیں ابیض مشرب اور مشرب کے معنے لغت والے یہ لکھتے ہیں کہ ایسا سفید رنگ جس میں شرفی ملی ہوئی ہو یا پھر حضرت سلیمان نے یہ فرمایا کہ وہ جھنڈے کی مانند کھڑا ہو گا۔یعنی چھوٹے قد کا نہ ہوگا اور