فضائل القرآن — Page 280
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 280 تعالیٰ کے نشانات میری تائید میں ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے ساتھ ہی وہ دنیا جو ایک نظام کے ماتحت چل رہی تھی اُس میں ایسے تغیرات رونما ہونے لگ جاتے ہیں جو آسمانی کلام کے ماتحت ہوتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دنیا اُسی ہستی کے احکام کے ماتحت چل رہی ہے جس کی طرف سے قرآن آیا۔بعثت محمدی کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دُعا اس کے ثبوت کے لئے کہ کس طرح آسمان اور زمین کی بادشاہت ایک ہستی کے ماتحت چل رہی ہے میں آج سے چار ہزار سال پیچھے جاتا ہوں۔آج سے چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی بنیاد میں بلند کرتے ہوئے حضرت اسمعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر یہ دعا کی تھی کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَکیمُ یعنی اے خدا ہم تجھ سے یہ دُعا کرتے ہیں کہ اس ملک میں جو ہماری آئندہ نسل پھیلے گی۔اُس میں سے تو ایک رسول بھیج جس کے یہ کام ہوں کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايتك وہ تیری آیات انہیں پڑھ کر سنائے۔وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب شریعت کی باتیں انہیں سکھائے وَالْحِكْمَةَ اور احکام کی حکمتیں اُن پر واضح کرے ويز يہم اور انہیں پاک کرے اور بدیوں سے بچائے۔یہ دعا چار ہزار سال پہلے ایسی جگہ پر کی گئی جہاں نہ غلہ پیدا ہوتا تھا اور نہ اور کسی قسم کی کھیتی۔زمزم کا چشمہ جو نشان کے طور پر قائم ہوا اس کا پانی بھی کھاری ہے جسے ہندوستانی نہیں پی سکتے۔اس کھاری پانی کے چشمہ کے پاس چند گھر آباد تھے۔وہاں پتھروں کا ایک مکان بناتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب جو لوگ یہاں پیدا ہوں اُن میں تو اپنا ایک رسول بھیج جو تیری ہستی کے دلائل انہیں بتائے۔لوگوں کو تیری شریعت سکھائے۔اس شریعت کی حکمت یعنی باریکیاں بتائے کہ شریعت پر عمل کرنے کا کیا فائدہ ہے۔پھر اُن کو پاک بنائے۔اس دُعا پر اگر غور سے کام لیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں مندرجہ ذیل امور کی خبر دی گئی ہے۔