فضائل القرآن — Page 229
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 229 گناہ اپنے اوپر اٹھا کر قربان ہو گیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔انسان کی فطرت میں خدا کی محبت رکھی گئی ہے اور اس کی بناوٹ میں ہی خدا سے تعلق رکھا گیا ہے۔اس طرح عیسائیت کا پہلا عقیدہ باطل کر دیا گیا اور بتادیا گیا کہ کفارہ کوئی چیز نہیں ہے اس کی بنیاد اس امر پر ہے کہ انسان گناہگار ہے لیکن اسلام شروع ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ انسان نیک ہے اور اس کی فطرت میں خدا سے محبت رکھی گئی ہے نہ کہ گناہ۔دوسرا جواب یہ دیا۔کہ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الأكرم خدا جو تیرا رب ہے اس کی یہ شان ہے کہ دوسری چیزوں میں جو صفات پائی جاتی ہیں ان سب سے اعلیٰ صفات اس میں جلوہ گر ہیں۔عیسائیت کہتی ہے کہ خدا میں رحم کی صفت نہیں۔وہ گناہگار کو نہیں بخش سکتا مگر اسلام کہتا ہے جب انسان اپنے قصور وار کو بخش سکتا ہے اور انسان میں عفو کی صفت ہے تو خدا کیوں نہیں بخش سکتا اور اُس میں کیوں یہ صفت نہیں۔اس میں تو بدرجہ اتم یہ صفت ہے کیونکہ وہ آگرہ ہے یعنی تمام صفات حسنہ میں سب سے بڑھ کر ہے۔تیسر ا ر ڈ یہ کیا کہ فرما یا عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمُ۔عیسائیت کی تیسری بنیاد یہ ہے کہ شریعت لعنت ہے لیکن قرآن نے بتایا کہ شریعت میں وہ باتیں ہیں جو انسان عقل سے دریافت نہیں کر سکتا۔انسان اپنی کوشش سے شرعی احکام نہیں بنا سکتے اس لئے شریعت آتی ہے۔چوتھی زرعیسائیت پر یہ کی کہ فرمایا لَّا اِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَّاهُ اسْتَغْلی انسان بڑا ہی سرکش ہے جو یہ کہتا ہے کہ مجھے خدا کی شریعت کی ضرورت نہیں۔میں خود اپنی راہنمائی کے سامان مہیا کر لونگا۔یہ کہنے والے بہت نا معقول لوگ ہیں۔پانچواں رویہ کیا کہ فرمایا كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب۔ایسے لوگوں کی باتیں کبھی نہ سننا اور اللہ کی خوب عبادت اور فرمانبرداری کرنا۔رسول کریم صلی نیلم کو فرمایا کہ کسی راہب کی بات نہ سننا جو شریعت کو لعنت قرار دیتا ہے بلکہ خدا کی فرمانبرداری میں لگارہ۔گویا نجات اور قرب الہی کا ذریعہ بجائے کسی کفارہ پر ایمان لانے کے سجدہ یعنی فرمانبرداری یا بالفاظ دیگر اسلام کو قرار دیا ہے۔پس قرآن کی تو پہلی سورۃ نے ہی مسیحیت کو رد کیا ہے اور بادلیل رڈ کیا ہے۔اسی طرح سورۃ فاتحہ میں عیسائیت اور یہودیت کورڈ کیا گیا ہے۔پھر کیا کوئی شخص مان سکتا ہے کہ عیسائی اور یہودی