فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 434

فضائل القرآن — Page 230

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 230 اپنے مذہب کے خلاف خود دلائل بتایا کرتے تھے۔دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔یا تو عیسائی راہب اپنے مذہب کو ماننے والا ہوگا یا نہ ماننے والا۔اگر ماننے والا تھا تو اسے چاہئے تھا کہ اپنے مذہب کی تائید کرتا نہ کہ اس کے خلاف باتیں بتاتا اور اگر نہ ماننے والا تھا اور سمجھتا تھا کہ جو باتیں اس کے ذہن میں آئی ہیں وہ اعلیٰ درجہ کی ہیں تو اس نے ان کو خود اپنی طرف منسوب کر کے کیوں نہ پیش کیا۔اسے چاہئے تھا کہ اپنے نام پر کتاب لکھتا نہ کہ لکھ کر دوسرے کو دے دیتا۔اب میں ان آیتوں اور ان میں مذکور جوابات کو لیتا ہوں۔سورہ محل کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اسے کوئی اور آدمی سکھاتا ہے۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ وہ شخص تو عجمی ہے اور قرآن کی زبان عربی ہے۔وہیری کہتا ہے کہ یہ جواب بالکل بودا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا کالا ہے۔مضمون وہ بھی بنا کر دیتا تھا۔آگے عربی میں وہ خود ڈھال لیتے تھے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کے دوسرے جواب بھی ایسے ہی بودے ہوتے ہیں۔اگر قرآن کی دوسری باتیں ارفع اور اعلیٰ ہیں تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ یہ جواب بھی ضرور اعلیٰ ہوگا اور جو مطلب ہم سمجھتے ہیں وہ غلط ہوگا۔دوسرے اگر یہ جواب بے جوڑ تھا تو کیوں مکہ والوں نے اسےرڈ نہ کر دیا اور کیوں وہیری والا جواب انہوں نے نہ دیا ان کا تو اپنا اعتراض تھا اور وہ اپنے اعتراض کا مطلب و ہیری وغیرہ سے بہتر سمجھتے تھے۔وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ تو بے معنی جواب ہے مگر کسی ضعیف سے ضعیف روایت میں بھی یہ نہیں آتا کہ مکہ والوں نے کہا ہو یہ جواب بے جوڑ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا جو اعتراض تھا اس کا جواب انہیں صحیح اور مسکت مل گیا تھا۔اسی لئے وہ خاموش ہو اب رہا یہ امر کہ اچھا پھر سوال و جواب کا مطلب کیا تھا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل میں کفار کا سوال ایک نہ تھا بلکہ دو تھے اور ان سوالوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی قرآنی جواب کو بے جوڑ قرار دے دیا گیا ہے۔ان میں سے ایک کا ذکر سورۃ محل میں ہے اور دوسرے کا سورۃ فرقان میں سورۃ محل کا وہ سوال نہیں جو سورۃ فرقان کا ہے اور سورۃ فرقان میں وہ نہیں جو سورۃ نحل میں ہے۔چنانچہ سورۃ پھل میں یہ اعتراض نقل ہے کہ ایک بجھی شخص آپ کو سکھاتا ہے۔قرآن کریم نے اس کا نام نہیں لیا مگر یہ کہا ہے کہ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ آنجھی ہے کہ وہ جس کی طرف قرآن کو