فضائل القرآن — Page 223
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 223 کرتا ہوں۔اگر رسول جھوٹا ہو تو فور انتباہ کر دیا جاتا ہے۔پس یہ کا ہن نہیں ہے بلکہ خدا کا سچا رسول ہے اور اس پر جو کلام نازل ہوا ہے یہ رب العالمین خدا کی طرف سے اُتارا گیا ہے۔اگر کہو کہ یہ اس طرح اپنی کہانت کو چھپاتا ہے تو یا درکھو کہ جان بوجھ کر ایسا کرنے والا کبھی سزا سے نہیں بچ سکتا۔اگر شخص ہماری طرف جھوٹا الہام منسوب کر دیتا خواہ ایک ہی ہوتا تو ہم یقینا اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ دیتے اور اس صورت میں تم میں سے کوئی بھی نہ ہوتا جو اسے خدا کے عذاب سے بچا سکتا۔چھٹا اعتراض ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ آپ شاعر ہیں۔چنانچہ سورۃ انبیاء رکوع اول میں آتا ہے بَلْ هُوَ شاعر که یہ صحیح باتیں بیان کر کے لوگوں پر اثر ڈال لیتا ہے۔اس کا جواب سورۃ یسین رکوع ۵ میں یہ دیا کہ وَمَا عَلَّمْنَهُ الشَّعْرَ وَمَا يَنبَغِى لَهُ إِنْ هُوَالًا ذِكْرٌ وَقُرَانٌ مُّبِينٌ لِيُنْذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحقِّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَفِرِينَ ٣ یعنی ہم نے اسے شعر نہیں سکھایا اور یہ تو اس کی شان کے مطابق بھی نہیں ہے۔یہ تو ذکر اور قرآن مبین ہے۔کھول کھول کر باتیں سنانے والا ہے۔یہ اس لئے نازل کیا گیا ہے تا کہ اُسے جس میں روحانی زندگی ہے ڈرائے اور کافروں پر حجت تمام ہو جائے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اوّل قرآن شعر نہیں۔ان لوگوں کی عقلیں ماری گئی ہیں کہ نثر کو شعر کہتے ہیں۔دوم اگر کہیں کہ مجازی معنوں میں شعر کہتے ہیں کیونکہ شعر کے معنے ایسی چیز کے ہوتے ہیں جو اندر سے باہر آئے اور شعر کو اس لئے شعر کہا جاتا ہے کہ وہ جذبات کو اُبھارتا ہے تو اس کا جواب یہ دیا کہ وَمَا يَنبَغِی له یہ تو اس کی شان کے ہی مطابق نہیں کہ اس قسم کی باتیں کرے۔اس کی ساری زندگی دیکھ لو۔شاعر کی غرض اپنے آپ کو مشہور کرنا ہوتی ہے مگر یہ تو کہتا ہے مثلُكُم میں تمہارے جیسا ہی انسان ہوں۔پھر شاعر ان لوگوں کی مدح کرتا ہے جن سے اس نے کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے مگر یہ تو کہتا ہے کہ میں تم سے کچھ نہیں لیتانہ کچھ مانگتا ہوں۔پس شاعری اور اس کا لایا ہوا کلام آپس میں کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔سوم پھر اس میں ذکر ہے حالانکہ شعر ذکر نہیں ہوتا یعنی شعر