فضائل القرآن — Page 203
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 203 اللہ کے فرمایا وہ لوگ جن کو پیچھے چھوڑا گیا ہے۔جب تم جنگ کو جاتے ہو اور وہ سمجھتے ہیں کہ فتوحات حاصل ہونگی اور غنیمتیں ملیں گی تو کہتے ہیں ہمیں بھی ساتھ لے چلو۔وہ چاہتے ہیں کہ اس طرح خدا کے کلام کو بدل دیں۔اگر تم ان کو ساتھ لے جاؤ گے تو وہ کہیں گے دیکھو انہوں نے خدا کے کلام کو بدل دیا ہے۔جس میں کہا گیا تھا کہ یہ نہیں جائیں گے اور اگر نہ لے جاؤ گے تو کہیں گے یہ حریص ہیں۔سب کچھ خود ہی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔غرض قرآن میں کلام اللہ کا لفظ تین جگہ آیا ہے اور تینوں جگہ قرآن کریم کے متعلق ہی استعمال ہوا ہے۔کسی اور کتاب کے متعلق نہیں۔اس لئے عقلاً یہی کہا جائے گا کہ قرآن ہی حلام اللہ ہے اور ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم بلا دلیل یہ خیال کریں کہ قرآن کریم کے سوا کوئی اور آسمانی کتاب بھی کلام اللہ کے نام کی مستحق ہے۔حضرت موسی علیہ السلام کی کتاب کا نام کلام اللہ نہیں رکھا گیا پھر اس کو ہم کلام اللہ کیسے کہہ سکتے ہیں۔خصوصا جب کہ میں آئندہ ثابت کروں گا کہ تاریخی بھی ان میں سے کوئی کتاب کلام اللہ نہیں۔قرآن کریم میں انبیاء کو کلمہ کہا گیا ہے۔الہامات کو کلمات کہا گیا ہے بلکہ کلمات اللہ بھی کہا گیا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ كَلَّمَ اللهُ مُوسی تعلیمات موسیٰ سے خدا نے خوب اچھی طرح کلام کیا لیکن باوجود اس کے حضرت موسیٰ کی کتاب جس کا بہت سی جگہ قرآن کریم میں ذکر آیا ہے اسے کلام اللہ نہیں کہا گیا۔جیسا کہ فرمایا نَبَدَ فَرِيقٌ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ كِتَبَ اللهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ یعنی وہ لوگ جن کو کتاب اللہ دی گئی تھی انہوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال دیا گویا کہ انہیں علم ہی نہیں۔پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اللہ اور کلام اللہ میں فرق ہے۔کتاب اللہ ہر اس کتاب کو جس میں خدا کی باتیں ہوں کہا جاسکتا ہے لیکن کلام اللہ ہر ایک کو نہیں کہا جاسکتا۔دوسری الہامی کتابوں کو کتاب اللہ کہا گیا ہے اور کتاب اللہ کا لفظ قرآن کے متعلق بھی موجود ہے مگر دوسر الفظ کلام اللہ صرف قرآن کے لئے استعمال کیا گیا ہے کسی اور کے لئے نہیں۔یہ فرق ہے اور یہ بغیر حکمت کے نہیں۔