فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 434

فضائل القرآن — Page 202

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 202 فیروز پور کے علاقہ کے ایک شخص نے دوسروں سے بیان کیا کہ میں ایک دفعہ قادیان گیا تو مجھے مہمان خانہ میں ٹھہرایا گیا۔ہمارے پہنچتے ہی معلوم ہوا کہ مرزا صاحب نے حلوہ بھیجا ہے اور کہا ہے کہ سب مہمانوں کو کھلا دو۔باقی سب مہمانوں نے تو کھا لیا لیکن میں نے موقع پا کر پھینک دیا۔کچھ دیر بعد مرزا صاحب مجھے ساتھ لے کر فٹن میں سیر کو نکلے۔(اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہ قادیان آیا ہی نہیں تھا ) رستہ میں مجھ سے باتیں کرتے رہے اور کہا میں ہی خدا ہوں۔یہ سن کر میں نے لا حول پڑھا۔اس پر ان کا رنگ فق ہو گیا اور مولوی نورالدین صاحب کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کیا اسے حلوہ نہیں کھلایا تھا؟ مولوی صاحب کا بھی رنگ اُڑ گیا اور انہوں نے کہا میں نے تو حلوہ بھیج دیا تھا۔نہ معلوم کیا بات ہوئی۔پھر میں وہاں سے بھاگ آیا۔جس مجلس میں اس نے یہ بات سنائی۔اسی میں ایک معزز غیر احمدی بیٹھے تھے۔انہوں نے کہا۔یہ شخص بڑا ہی جھوٹا ہے۔میں خود قادیان سے ہو آیا ہوں اور یہ وہاں گیا ہی نہیں۔وہاں تو یگہ چلنا بھی مشکل ہے۔فٹن اس کا باپ وہاں لے گیا تھا؟ اسی طرح وہ لوگ کرتے۔کلام سنتے اور پھر کچھ کا کچھ جاکر دوسروں سے بیان کرتے۔اس بات کا ثبوت کہ یہ انہی کے متعلق ہے یہ ہے کہ اگلی آیت میں آتا ہے۔وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلا بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ قَالُوا الْحَدِثُونَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللهُ عَلَيْكُمْ لِيُعَاجُوكُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ کے وہ مسلمانوں کے پاس آکر کہتے ہیں ہم تو ایمان لے آئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریف کرنے والے بھی رسول کریم سنی لی لی پور کے زمانہ کے لوگ تھے جو قرآن سن کر دوسروں کے سامنے جھوٹ بولتے اور کہتے کہ اس نے یوں کہا ہے، ووں کہا ہے۔پھر اس جگہ فرماتا ہے۔يَسْمَعُونَ كَلام الله کلام اللہ سنتے ہیں مگر یہودی کوئی کتاب نہیں سنتے تھے بلکہ پڑھتے تھے اور اس میں فقرے داخل کرنے والاسن کر نہیں بلکہ پڑھ کر داخل کر سکتا ہے۔اگر بائیمیل مراد ہوتی تو يَقرَ ونَ آتا کیونکہ بائیبل تو وہ لوگ پڑھا کرتے تھے۔پس یہاں تو رات کا نہیں بلکہ قرآن کا ذکر ہے اور مراد یہ ہے کہ مسلمانوں سے سن کر اور سمجھ کر ایسے رنگ میں بیان کرتے ہیں کہ لوگ مخالفت میں بڑھیں۔تیسری آیت سورۃ فتح رکوع ۲ کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انْطَلَقْتُم إِلى مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعُكُمْ يُرِيدُونَ أَنْ تُبَدِّلُوا كَلمَ