فضائل القرآن — Page 204
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 204 وحی الہی کی مختلف اقسام اس فرق کو سمجھنے کے لئے یادرکھنا چاہئے کہ انبیاء کی وحی کئی قسم کی ہوتی ہے۔(۱) ایک وہ وجی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں کانوں میں پڑتی ہے اور زبان پر جاری ہوتی ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ نے رسول کریم ملی ایام کو سنایا۔الْحَمدُ للهِ رَبِّ الْعَلَمینَ۔یہ الفاظ کان میں آواز کے طور پر پڑے اور زبان پر جاری ہوئے۔اس آیت کا اہل، ح، م، داور ان کی اعراب سب خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے ہیں۔یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے ایک مضمون رسول کریم سنتی ای یتیم کے دل میں ڈال دیا بلکہ ہر حرف اور ہر لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔یہ وحی سب انبیاء پر نازل ہوئی۔(۲) دوسری وحی رویا اور کشوف ہیں۔یہ الفاظ میں نہیں بلکہ نظاروں میں ہوتی ہے۔مثلاً رسول کریم صلی السلام جب اُحد کی جنگ میں تشریف لے جانے لگے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کی تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے اور دیکھا کہ ایک گائے ذبح کی جارہی ہے۔آپ نے فرمایا تلوار کی شکستگی سے مراد فتح ہے جو مشتبہ ہوگی اور گائے کے ذبح ہونے سے مراد یہ ہے کہ کچھ احباب شہید ہو نگے۔یہ وحی بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی مگر فرق یہ ہے کہ پہلی وحی الفاظ میں تھی اور یہ نظارہ میں ہے اور نظارہ بیان کرتے وقت اپنے الفاظ بیان کرنے پڑتے ہیں۔بالکل ممکن ہے کہ اس بیان میں کچھ اونچ نیچ ہو جائے۔اور (۳) تیسری وحی خفی ہوتی ہے جو الفاظ میں نازل نہیں ہوتی نہ نظارہ دکھایا جاتا ہے بلکہ تفہیم اور انکشاف کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔دل میں ایک خیال پیدا ہوتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی دل میں ڈالا جاتا ہے کہ یہ تمہارا خیال نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ڈالا گیا ہے اور الفاظ اس کو خود بنانے پڑتے ہیں۔یہ سب سے ادنیٰ درجہ کی وحی ہے۔اس سے بڑھ کر رویا اور کشف کی وحی ہوتی ہے مگر اس میں تاویل کی ضرورت ہوتی ہے اور تاویل میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے لیکن پہلی وحی جو الفاظ میں ہوتی ہے اس میں غلطی کا کوئی احتمال نہیں ہوتا۔یہ سب اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے۔اب اگر ایک نبی اپنی تمام وحی کو ایک کتاب میں جمع کر دے جس میں وحی کلام بھی ہو۔اور وحی کشف ورڈ یا بھی ہو اور وحی خفی بھی نبی کے اپنے الفاظ میں ہو تو اسے ہم کتاب اللہ تو کہہ سکتے ہیں