فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 434

فضائل القرآن — Page 169

فصائل القرآن نمبر۔۔۔169 ہے کیونکہ آپ خدا تعالیٰ کے عشق اور اس کے ذکر میں محو رہتے تھے اور ایسے آدمی کی قوت رجولیت ساتھ ہی نشو و نما پا جاتی ہے۔گو اس شخص نے صحیح الفاظ میں حقیقت کو بیان نہیں کیا لیکن حق یہی ہے کہ بقائے دوام کی خواہش کا ذریعہ غدود شہوانیہ ہیں۔اور بقائے نسل ان کا ایک ضمنی اور ماتحت فعل ہے۔پس ضروری تھا کہ اس اضطراب کو کم کرنے کے لئے جو خدا تعالیٰ نے غدود شہوانیہ کے ذریعہ سے انسان کے اندر پیدا کیا تھا اور اس طرح اپنی طرف بلایا تھا ایک ایسی صورت کی جاتی کہ اضطراب اپنے اصل رستہ سے ہٹ جانے کا موجب نہ ہوتا اور طاقت کے بقیہ حصہ کو استعمال بھی کر لیا جاتا جس کے لئے مرد عورت کے تعلقات کو رکھا گیا ہے۔اور مرد کو عورت کے لئے اور عورت کو مرد کے لئے موجب سکون بنا دیا۔حضرت خلیفہ اول کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے۔آپ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے بیماری کی حالت میں روزہ رکھ لیا تو اس سے شہوانی طاقت کو بہت ضعف پہنچ گیا۔بیسیوں لوگوں کو میرے علاج سے فائدہ ہوتا تھا مگر مجھے کچھ فائدہ نہ ہوا۔آخر میں نے سوچا کہ خدا تعالیٰ کا ذکر شروع کرنا چاہئے۔چنانچہ میں نے کثرت سے تسبیح وتحمید کی تو شفا ہو گئی۔پس یہ بہت بار یک تعلقات ہیں جنہیں ہر ایک انسان نہیں سمجھ سکتا۔روحانیت میں بھی رجولیت اور نسائیت کی صفات یہ سلسلہ کہ ہر ایک چیز کو اللہ تعالیٰ نے جوڑوں میں پیدا کیا ہے تا کہ غفلت میں کمال، غلط اطمینان کا باعث ہو کر باعث تباہی نہ ہو اور تاکہ ہر ایک چیز اپنی ذات میں کامل نہ ہو اور اس کامل وجود کی طرف اس کی توجہ رہے جس سے کمال حاصل ہوتا ہے۔یہ ظاہری حالات کے علاوہ روحانیات میں بھی چلتا ہے۔اور اس سے بھی اس ظاہری سلسلہ کی حقیقت کھل جاتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر کافر پر ابتداء رجولیت ایمان کی حالت غالب ہوتی ہے اور ہر مومن پر رجولیت کفر کی حالت غالب ہوتی ہے۔مثلاً جب کوئی شخص جاہل ہوگا تو جہالت کی وجہ سے اس کے دل میں تڑپ پیدا ہوگی اور وہ علم حاصل کرے گا۔لیکن جب کوئی علم حاصل کر لے گا تو اسے اطمینان حاصل ہو جائے گا کہ علم حاصل کر لیا۔ہر جگہ یہی بات چلتی ہے۔قرآن کریم میں مومن کی