فضائل القرآن — Page 170
170 فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ مثال فرعون کی بیوی سے دی گئی ہے کیونکہ ابتداء میں مومن پر کفر غلبہ کرنا چاہتا ہے لیکن آخر کفر مغلوب ہو جاتا ہے۔اسی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے کہ ہر انسان کا ایک گھر جنت میں ہوتا ہے اور ایک دوزخ میں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ واقعہ میں ہر انسان کا ایک گھر جنت میں اور ایک دوزخ میں ہوتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں دونوں قسم کی طاقتیں ہوتی ہیں۔کفر کی طرف کفر والی طاقت کھینچتی ہے اور ایمان کی طرف ایمان والی طاقت اور انسان ایک یا دوسری کی طرف پھر جاتا ہے۔در حقیقت قرآنی اصطلاح میں رجولیت چیکنگ پاور کا نام ہے اور نسائیت فیضان کا لیکن بعد میں ایک یا دوسرے کی طرف انسان پھر جاتا ہے۔البتہ بعض استثنائی صورتیں بھی ہوتی ہیں اور ایسے انسان مریمی صفت ہوتے ہیں۔یعنی شروع سے ہی ان کی رجولیت اور نسائیت ایک رنگ میں رنگین ہوتی ہے اور وہ تقدس کے مقام پر ہوتے ہیں یعنی بعض لوگوں میں فطر کا ایسا مادہ ہوتا ہے کہ تاثیر کا مادہ بھی ان کے اندر ہوتا ہے اور تاثر کا مادہ بھی۔جب ان کی رجولیت اور نسائیت کامل ہو جاتی ہیں تو ان سے ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جو قدوسیت یا مسیحیت کا رنگ رکھتا ہے لیکن باقی لوگ کسی طور پر یہ بات حاصل کرتے ہیں۔جس انسان کے اندر ہی یہ دونوں مادے ہوں اس کو نیا مرتبہ ملتا اور اس کی ایک نئی ولادت ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سورۃ تحریم سے جب یہ استدلال کیا کہ بعض انسان مریکی صفت ہوتے ہیں۔تو اس پر نادانوں نے اعتراض کیا کہ مرزا صاحب کبھی عورت بنتے ہیں کبھی حاملہ ہوتے ہیں اور کبھی بچہ جنتے ہیں۔حالانکہ تمام صوفیاء لکھتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ حضرت شہاب الدین صاحب سہر وردگی اپنی کتاب عوارف المعارف میں حضرت مسیح سے یہ روایت کرتے ہیں کہ لَن تَلِجَ مَلَكُوتَ السَّمَاءِ مَنْ لَمْ يُولد مرتين " یعنی کوئی انسان خدائی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک دو دفعہ پیدا نہ ہو۔ایک وہ پیدائش جو خدا کے ہاتھوں سے ہوئی اور دوسری مریم والی پیدائش۔پھر اپنی طرف سے کہتے ہیں۔وَصَفُ الْيَقِينِ عَلَى الْكَمَالِ يَحْصُلُ فِي هَذِهِ الْوِلَادَةِ وَبِهَذِهِ الْوِلَادَةِ يَسْتَحِقُ مِيرَاثَ الْأَنْبِيَاء وَمَنْ لَمْ يَصِلُهُ مِيرَاتُ الْأَنْبِيَاء مَا وُلِدَ وَإِنْ كَانَ عَلَى كَمَالٍ مِنَ الْفِطْنَةِ وَالذَّكَاء لِاَنَّ الْفِطْنَةَ وَالزَّكَاءَ نَتِيْجَةُ الْعَقْلِ وَالْعَقْلُ إِذَا كان يَابِسَا مِن نُورِ الشّرع لا يدخُلُ الْمَلَكُوتَ وَلَا يَزَالُ مُتَرَدِّدًا فِي الْمُلْكِ لا يعنى ۶۳ یعنی