فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 434

فضائل القرآن — Page 168

- 168 فصائل القرآن نمبر۔۔۔بقائے اولاد کے ذریعہ ہوتا ہے۔روح کی ترقی سے بقاء ابدی حاصل ہوتا ہے اور اولاد کے ذریعہ جسمانی بقاء ہوتا ہے۔اس لئے بقاء پیدا کرنے والی زائد طاقت کو اس کے لئے استعمال کر لیا گیا۔اگر کوئی کہے کہ پھر حیوانات میں اس طاقت کے رکھنے کا کیا فائدہ ہے تو اس کے لئے یہ یا درکھنا چاہئے کہ انسان کی پیدائش مختلف دوروں کے بعد ہوئی ہے۔پہلے چھوٹا جانور بنا پھر بڑا پھر اس سے بڑا اور آخر میں انسان پیدا کیا گیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔مَالَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلهِ وَقَارًا " تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم خدا کے لئے وقار پسند نہیں کرتے اور تم کہتے ہو کہ خدا جلدی کر دے۔وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطوَارًا تم اپنی پہلی پیدائش کو دیکھو کہ کتنے عرصے میں ہوئی ہے۔غرض انسان مختلف دوروں کے بعد بنا ہے اور انہی دوروں میں سے حیوانات بھی ہیں۔پس تمام حیوانات در حقیقت انسانی مرتبہ تک پہنچنے کی سیڑھیاں ہیں ورنہ وہ اپنی ذات میں خود مقصود نہیں اور جو چیز سیڑھیوں پر لے جائی جائے گی وہ راستہ میں بھی گرے گی۔اس لئے وہ چیزیں جو انسان کی ترقی کے لئے بنی تھیں وہ حیوانوں میں بھی پائی گئیں مگر یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قوت شہوانی جس قدر انسان میں ترقی یافتہ ہے اس قدر حیوانات میں نہیں ہے اور پھر یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قوت شہوانی کا دماغی قابلیتوں سے ایک بہت ہی گہرا تعلق ہے اور بہت سے اعصابی نقصوں اور دماغی نقصوں کا علاج شہوانی غدودوں کے رس ہیں۔غرض حق یہ ہے کہ شہوانی طاقتوں کے پیدا کرنے والے آلات کا اصل کام اخلاق کی درستی ہے لیکن چونکہ اصل کام کے بعد کچھ بقائے ضرور رہ جاتے ہیں جو بطور زائد سٹیم کے ہوتے ہیں۔اگر انہیں نہ نکالا جائے تو انجن کے ٹوٹنے کا ڈر ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس سے دوسرا کام بقائے نسل کا لے لیا اور بجائے نسل انسانی کے چلانے کے کسی اور ذریعہ کے اس ذریعہ کو اختیار کیا۔یہ ایک حقیقت ہے جسے دنیا ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھی مگر آہستہ آہستہ سمجھ رہی ہے اور طبی دنیامان رہی ہے کہ قوت شہوانی کا دماغی قابلیتوں سے بہت گہرا تعلق ہے اور ان غدودوں سے کام لئے جاتے ہیں۔چنانچہ یورپ کا ایک ماہر مانتا ہے کہ ان غدودوں میں نقائص کی وجہ سے ہی مایوسی اور کئی دوسرے جسمانی نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔ایک امریکن مصنف نے سات جلدوں میں ایک کتاب لکھی ہے جس میں وہ رسول کریم ملا نا ہی یتیم کے متعلق لکھتا ہے کہ آپ پر کئی شادیاں کرنے کا اعتراض فضول