فضائل القرآن — Page 156
156 فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔سکتا۔وہ بہر حال کھاتا پیتا ہوگا مگر اپنی لیاقت اور قابلیت سے کام نہ لینے کی وجہ سے ترقی نہیں کر سکتا۔اگر اُسے دس ہزار روپیہ دے دیا جائے تو کام چلا سکتا ہے۔ایسے شخص کو صدقہ کی مد سے حکومت روپیہ دے سکتی ہے خواہ بطور قرض ہو خواہ بطور امداد۔( ج ) ایک ایسا شخص ہو جو ہو تو مالدار مگر مقروض ہو۔مثلاً اس کی پچاس ہزار کی تجارت ہو اور دس ہزار اس پر قرض ہوا اور قرض والے اپنا روپیہ مانگتے ہوں۔تو اگر وہ سرمایہ میں سے ان کا قرض ادا کر دے تو اس کی پچاس ہزار کی تجارت تباہ ہو جاتی ہے یسے شخص کی بھی صدقہ سے مدد کی جاسکتی ہے۔یا مثلاً زمیندار ہے اور وہ مقروض ہے۔اگر قرض ادا کرے تو اس کی زمین بک جاتی ہے اور اس کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں رہتی اسے بھی صدقہ میں سے مدددی جاسکتی ہے۔چہارم۔صدقہ میں صدقہ کے عاملوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے کیونکہ جب اسلام نے یہ حکم دیا کہ فلاں فلاں کو صدقہ دینا ضروری ہے تو یہ سوال ہو سکتا تھا کہ پھر صدقہ جمع کون کرے پس ضروری تھا کہ اس کے لئے کارکن ہوں اور ان کی تنخواہیں مقرر کی جائیں بے شک اسے صدقہ نہیں قرار دیا جائے گا مگر صدقہ میں سے ہی ان کی تنخواہیں ادا کی جاسکیں گی۔یہ ایک سوال ہے، جس کی طرف اور کسی مذہب نے توجہ نہیں کی یعنی یہ نہیں بتایا کہ صدقہ میں عاملوں کا بھی حق ہے۔پنجم۔یہ بتایا کہ سائل کو بھی محروم نہیں رکھنا چاہئے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ سائلوں کو نہیں دینا چاہئے کیونکہ اس طرح ان کی عادت خراب ہو جاتی ہے لیکن اسلام کہتا ہے کہ انہیں دینا چاہئے کیونکہ بعض دفعہ صرف ظاہر کو دیکھ کر یہ پتہ نہیں لگتا کہ فلاں محتاج ہے یا نہیں۔اس وجہ سے اسلام نے یہ رکھا کہ کوئی شخص سوال کرے اور اس کو پورا کرنے کی مقدرت ہو تو اُسے دے دینا چاہئے۔ششم۔اپنوں پرائیوں سب کو صدقہ دیا جائے سوائے ان کے جو اس وقت جنگ میں من ہوں تا کہ وہ نقصان نہ پہنچائیں۔ہفتم۔انسانوں کے سوا جانوروں کو بھی جو محروم ہیں جن کی کوئی مالیت نہیں سمجھی جاتی۔صدقہ سے محروم نہ رکھا جائے کہ خدا تعالیٰ نے ان کا حصہ انسان کے ساتھ شامل کر دیا ہے۔گویا بوڑھے اور ناکارہ جانوروں کو چارہ اور دانہ ڈالنا بھی صدقات میں شامل ہے اور ثواب کا موجب ہوگا۔گئو شالہ کو مدد دینا بھی صدقہ ہے مگر اونٹ شالے اور بھینس شالے بھی ہونے چاہئیں۔مشغول