فضائل القرآن — Page 155
فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 155 تمہیں تمہارے گھروں اور وطنوں سے نہیں نکالا۔تم ان سے نیکی اور انصاف کرو۔اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ مسلمانوں کے مالوں میں حق ہے سوالی کا بھی یعنی جو بول سکتا ہے اور محروم کا بھی یعنی حیوانوں کا جو بول نہیں سکتے۔پھر فرماتا ہے۔وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِى الْقُرْنِي وَالْمَسْكِينَ وَالْمُهَجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔اسے یعنی اے مومنو! کوئی تم میں سے یہ قسم نہ کھائے کہ میں قریبیوں کو اور مساکین کو اور مہاجرین فی سبیل اللہ کو صدقہ نہ دوں گا چاہئے کہ تم در گذر سے کام لو۔کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا تمہارے متعلق در گذر سے کام لے۔پس کسی سے ناراض ہو کر اسے صدقہ سے الم محروم نہیں کرنا چاہئے۔ان آیات سے معلوم ہوا کہ اول اسلام نے صدقہ مستحقین کو دینے کا ارشاد فرمایا ہے۔کسی خاص قوم سے مخصوص نہیں کیا۔نہ اس میں کوئی زائد ثواب رکھا ہے۔دوم اپنے بیگانے میں فرق نہیں کیا۔اپنوں کے لئے بھی جائز رکھا ہے اور دوسروں کے لئے بھی۔اس طرح ایسے لوگوں کے خیالات کی تردید کی ہے جو (الف) اپنوں کی خود بھی مدد نہیں کرتے اور صدقہ بھی نہیں دیتے کہ اپنوں کو کس طرح دیں۔(ب) جو غریب اپنوں کو مدد اور صدقہ ایک ہی وقت میں نہیں دے سکتے انہیں نیکی سے محروم نہیں کیا گیا بلکہ اپنوں کی مدد کو ہی صدقہ شمار کر لیا ہے۔سوم صدقہ صرف غرباء کے لئے ہی نہیں رکھا گیا بلکہ ان سے جو مشابہ لوگ ہوں ان کے لئے بھی رکھا ہے (الف) مثلاً ایک لکھ پتی ہو مگر رستہ میں اس کا مال ضائع ہو گیا ہو تو اسے بھی صدقہ دے سکتے ہیں۔اسے قرض اس لئے نہیں دے سکتے کہ کیا پتہ ہے کہ وہ کوئی لٹیرا ہو اور دغا باز ہے یا ٹھگ ہے لیکن صدقہ دے سکتے ہیں کیونکہ اگر ٹھنگ اور دغا باز ہوگا تو اس کا وبال اس پر پڑے گا۔(ب) مساکین مسکین سے مراد غریب نہیں کیونکہ اگر اس کی یہی معنے ہوتے تو پھر لِلْفُقَرَآء کیوں فرمایا۔در اصل مسکین سے مراد ایسا شخص ہے جو سر مایہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنا کام نہ کر سکے۔مثلاً ایک شخص ایک فن جانتا ہے مگر وہ فن ایسا ہے کہ دس ہزار روپئے سے کام چل سکتا ہے۔ایسا شخص فقیر تو نہیں کہلا