فضائل القرآن — Page 157
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔157 صدقات کی تقسیم کے اصول بارہویں بات اسلام نے یہ بیان کی کہ حکومت جو صدقات وصول کرے انہیں کن اصول پر تقسیم کرے۔اس کے لئے اسلام نے قواعد مقرر کئے ہیں۔فرمایا تُظهِرُ هُمْ وَتُزَكِّيهِم یکا کے یعنی دو اصل تمہارے مدنظر ہونے چاہئیں۔اول - تُظهِرُهُمْ۔قوم کی کمزوری دور کرنے کے لئے اور مصیبت زدوں کی مصیبت دور کرنے کے لئے۔دوم - يزكيهم بقا۔قوم کو بلند کرنے کے لئے۔زمنی کے معنے اُٹھانے اور ترقی دینے کے بھی ہوتے ہیں۔صدقہ دینے اور لینے والوں کے تعلقات پر بحث تیرھویں بات یہ بیان کی کہ صدقہ دینے والے اور جنہیں دیا گیا ہو ان کے تعلقات کیا ہوں ؟ (۱) شریعت نے ایسے مال کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے۔ایک وہ حصہ جو حکومت کے ہاتھ سے جاتا ہے۔اس کے متعلق کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے ہاتھ سے گیا ہے۔یا میراروپیہ فلاں کو دیا گیا ہے کیونکہ وہ سب کا جمع شدہ مال ہوتا ہے جس میں سے حکومت خود مستحق کو دیتی ہے اس طرح دینے والے کا واسطہ ہی اُڑا دیا گیا ہے اور احسان جتانے کی کوئی صورت ہی باقی نہیں رہنے دی۔(۲) حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ کہہ کر احسان جتانے کی روح کو بھی کچل دیا اور بتایا کہ جن کو صدقہ دیا جاتا ہے ان کا بھی دینے والے کے مال میں حق ہے۔(۳) لیکن چونکہ ہر ایک اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا اس لئے ظاہری احکام بھی دے دیئے۔چنانچہ فرمایا۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمْ بِالْمَنِ وَالْأَذَى " اے مومنو! صدقات کو احسان جتا کر یا دوسروں سے خدمت لے کر ضائع نہ کرو۔(۴) پھر ایک اور پہلو اختیار کیا جس سے احسان کا کچھ بھی باقی نہ رکھا۔فرمایا۔تمحى الله الرَّبُوا وَيُرْبِی الصَّدَقَتِ اللہ تعالیٰ سود کو مٹائے گا اور صدقات دینے والوں کے مال کو