فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 434

فضائل القرآن — Page 136

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 136 اخلاقی معلمین کا قول کہ نیکی کو نیکی کی خاطر کرنا چاہئے صدقہ و خیرات کے متعلق جن لوگوں نے خود تعلیم بنائی ہے اور جو اخلاقی معلمین کہلاتے ہیں انہوں نے یہ اصل بتایا ہے کہ نیکی کو نیکی کی خاطر کرنا چاہئے۔سوائے اس کے اور کوئی بات صدقہ کے متعلق انہیں نہیں ملی۔ہم ان کی اس بات کو پیش نظر رکھیں گے اور پھر دیکھیں گے کہ اسلام نے اس سے بہتر تعلیم دی ہے یا نہیں۔فی الحال ہم اس کے متعلق اتنامان لیتے ہیں کہ یہ اچھی بات ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعلیم ہر جگہ چل سکتی ہے اور ہر انسان اس پر عمل کر سکتا ہے۔اب اگر یہ کہیں کہ صدقہ تبھی دو جب صدقے کی خاطر دے سکو تو جو لوگ اس طرح نہیں دے سکتے وہ نہیں دیں گے۔اور اس وجہ سے غریب صدقہ نہ ملنے پر بھوکے مریں گے کیونکہ جو اس طرح صدقہ نہیں دے سکتے وہ نہیں دیں گے وہ کہیں گے جب ہم صدقہ ، صدقہ کی خاطر نہیں دے سکتے تو پھر اپنا مال کیوں ضائع کریں اور جب وہ اس وجہ سے نہیں دیں گے تو غریب لوگ نقصان اُٹھا ئیں گے۔صدقہ کے مختلف پہلوؤں پر اسلام کی روشنی اب میں یہ بتا تا ہوں کہ اسلام نے کس طرح صدقہ و خیرات کو ایک علمی مضمون بنادیا ہے۔صدقہ کی مقدار پہلی چیز صدقہ کی مقدار ہے کہ کس قدر دینا چاہئے۔انجیل نے اس کے متعلق کہا ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ سب کا سب دے دو۔وید کہتا ہے برہمن جو کچھ مانگے وہ اسے بلا چوں و چرا دے دو۔مگر اسلام نے اس کی حد مقرر کر دی ہے۔اسلام کہتا ہے۔لَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلى عُنُقِكَ وَلا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا لا یعنی اے انسان ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ نہ تو اپنے ہاتھ کوکو بالکل باندھ کر رکھ کہ کچھ دے ہی نہیں۔( مغلولہ ہاتھ پیچھے کی طرف کھینچ کر