فضائل القرآن — Page 135
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔135 کے ماتحت پلاتی ہے۔ہاں اگر کسی دوسرے بچہ کو پلاتی ہے تو رحم سے پلاتی ہے۔کئی ایسی مائیں ہونگی جنہیں اگر یہ کہا جائے کہ تم نے اپنے بچہ کو چھ ماہ تک دودھ پلا لیا۔یہ اس پر کافی رحم ہو گیا اب دودھ پلا نا چھوڑ دو تو وہ لڑنے لگ جائیں گی۔کیونکہ ماں بچہ کو فطرتی محبت سے دودھ پلاتی ہے، رحم کے طور پر نہیں پلاتی۔صدقہ سے متعلق ویدوں کی تعلیم اب ہم ویدوں کو لیتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے وید نہیں پڑھے وہ تو سمجھتے ہونگے کہ اتنی بڑی بڑی ضخیم جلدیں ہیں نہ معلوم ان میں کیا کیا احکام ہو نگے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں احکام بہت کم ہیں۔تا ہم صدقہ و خیرات کی تعلیم کا ضرور ذکر ہے۔وید کہتے ہیں۔جب برہمن کوئی گائے مانگے تو اسے دے دینی چاہئے۔جو نہ دے وہ گنہگار ہوگا اور جو دینے سے روکے وہ بھی گنہگار ہوگا۔گویا (۱) ایک طرف تو مانگنا سکھایا (۲) اور پھر ایک خاص قوم کو صدقہ دلایا۔(۳) اور پھر کسی میں طاقت ہو یا نہ ہوا سے برہمن کو گائے دینے پر مجبور کیا خواہ اس کے بال بچے بھوکے مر جائیں۔یہ وید میں صدقہ کی تعلیم ہے۔چونکہ ہندوؤں میں برہمنوں کا زور تھا اس لئے سارا صدقہ یہی قرار دیا کہ برہمن کو دیا جائے۔چاہے کوئی کتنا غریب آدمی ہو، اس کی بیوی کا دودھ سوکھ گیا ہو اور اس کے بچے کی پرورش اس گائے کے دودھ پر ہورہی ہو جو اس کے گھر میں ہو پھر بھی اسے حکم ہے کہ جب برہمن گائے مانگے تو فورا دے دے۔اگر نہ دے گا تو سخت گنہ گار ہوگا اور اس کا سب کچھ تباہ ہوجائے گا۔شا ان ساری تعلیموں کو دیکھو۔ان میں صدقہ جیسی عام اور موٹی تعلیم میں بھی مکمل طور پر راہنمائی نہیں کی گئی اور جو لوگ کسی مذہب پر نہیں چلتے ان کے لئے ان کی اپنی مرضی را ہنما ہوتی ہے۔کسی کو جی چاہا تو دے دیا نہ چاہا تو نہ دیا۔گویا انسان نے اپنے تجربہ سے صدقہ و خیرات کے متعلق تو کوئی قانون نہیں بنایا۔بعض مذہبوں نے قانون بنایا مگر ناقص بنایا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت مسیح علیہ السلام یا ہندوستان کے رشیوں نے ایسی نامکمل اور ناقص تعلیم دی تھی بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ان مذاہب کی موجودہ تعلیم ناقص ہے۔اگر ان مذاہب کے بانیوں نے یہی تعلیم دی تو یہ ناقص ہے۔اور اگر ان مذاہب کے پیروؤں نے بنائی تو ان کی مذہبی اور الہامی کتابیں ناقص