فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 434

فضائل القرآن — Page 108

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ ایفائے وعدہ کا ثبوت 108 ط اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ او پر جو کچھ بیان ہوا یہ تو دعوئی ہے۔کیا ایفائے وعدہ بھی ہو گا سو اس کے متعلق فرمایا۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ اليْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوَى لِلْكَفِرِينَ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَاء وَإِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ " یعنی اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ کر افتراء کرے۔یا اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہو سکتا ہے جو اس سچائی کا انکار کر دے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس آئے۔کیا ایسے کافروں کی جگہ جہنم نہیں ہونی چاہئیے ؟ ہاں وہ جو ہماری تعلیم قرآن کے مطابق ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انہیں ضرور اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے اور اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ محسنوں کا ساتھ دیتا ہے۔اس آیت میں بتایا کہ ایسے لوگ جتنا ہماری طرف چل کر آسکیں گے اتنا اگر چلیں گے۔تو جب ان کے پیر چلنے سے رہ جائیں گے ہم خود جا کر انہیں لے آئیں گے کیونکہ ہمارا یہ طریق ہے کہ کچھ بندہ آتا ہے اور کچھ ہم اس کی طرف جاتے ہیں۔یہاں وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا الخ میں یہ بتایا کہ قرآن خدا پر افتراء نہیں۔اگر یہ جھوٹ ہوتا تو اس کے بنانے والا عذاب میں مبتلا کیا جاتا۔پھر وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُم سُبُلَنا میں یہ بتایا کہ جھوٹ کوئی اس وقت بولتا ہے جب سچائی سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے لیکن جب ہم نے کلام نازل ہونے کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ہم نے کہہ دیا ہے کہ محسن بن جاؤ تو اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاؤ گے تو کیوں بچی کوشش کر کے سچا کلام حاصل نہ کیا جائے۔جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔رضائے الہی حاصل کرنے والا کامیاب گروہ اس آیت کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس میں تو صرف یہ بتایا گیا ہے کہ ہم ایسا کریں گے۔سوال یہ ہے کہ کیا خدا تعالیٰ نے ایسا کیا بھی ہے یا نہیں ؟ سواگر چہ اس سوال کا جواب اس آیت میں آجاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ سے اتصال اس کا ہوگا جو مناسب روحانی تکمیل حاصل کر چکا ہو اور وہ جنت بھی پائے گا۔لیکن علیحدہ علیحدہ بھی ان باتوں کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ