فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 434

فضائل القرآن — Page 109

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 109 سے کامل تعلق رکھنے والے آخر قرآن پر چل کر اپنی مراد کو پہنچ گئے اور انہوں نے جنت پالی۔چنانچہ فرماتا ہے۔مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى تحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا لِيَجْزِيَ اللهُ الصَّدِقِينَ بِصِدْقِهِمْ ط ۶۵ وَيُعَذِّبَ الْمُنْفِقِينَ إِنْ شَاءَ أَو يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ، إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِما- ها فرمایا۔ان مومنوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے انہوں نے پورا کر دیا۔فَمِنْهُمْ مَنْ قَطَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا۔ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کو پورا کر دیا اور وہ خدا سے مل گئے۔نَخب کے معنی نذر اور مَا أَوْجَبَ عَلَى نَفْسِه کے بھی ہوتے ہیں۔پس اس سے مراد مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ " کے عہد کو پورا کرنے کے ہیں۔لیکن فرماتا ہے۔بعض ایسے بھی ہیں جو ابھی اس خلش میں لگے ہوئے ہیں کہ خدا سے مل جائیں۔انہوں نے اپنی طرف سے جدو جہد کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔سو خدا ایسے صادقوں کو بھی ان کے صدق کا ضرور بدلہ دے گا۔اس آیت سے ثابت ہے کہ قرآن نے یہ امر تسلیم کیا ہے کہ محمد صلہ پیہم کی امت میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو قرآن پر چل کر خدا کومل گئے۔ملائکہ سے مومنوں کا تعلق پھر ملائکہ چونکہ اخلاق فاضلہ کی محرک ہستیاں ہیں۔اس لئے مزید ثبوت کے لئے فرمایا کہ ان کی روحانی درستی کی علامتیں بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں اور روحانی تکمیل کے مؤکل ان سے ملنے لگتے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَبِكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أولِيؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَبِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ - كل یعنی وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس پر استقامت سے قائم رہتے ہیں