فضائل القرآن — Page 107
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 107 کہیں گے کہ آج تمہارے لئے بشارت ہے۔جنت تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَلِدِينَ فيها ان جنات اور قسم قسم کے باغوں کی جن میں نہریں بہ رہی ہیں۔يَوْمَ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالْمُنْفِقْتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّورِ كُمْ قِيْلَ ارْجِعُوا وَرَاءَ كُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ تم تو دوڑے جارہے ہو ذرا ہمارا بھی انتظار کرو۔ہم بھی تم سے نور لے لیں۔اس وقت ان سے کہا جائے گا تمہیں یہاں سے نور نہیں مل سکتا۔اگر طاقت ہے تو تم پیچھے کی طرف لوٹ جاؤ۔اور وہیں جاؤ جہاں سے تم آئے ہو اور وہاں جا کر نور کی تلاش کرو۔اس میں بتایا کہ وہ نور جو اگلے جہان میں کام آئے گا اسی دنیا میں ملتا ہے۔وہاں جانے کے بعد نہیں ملے گا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ انسان اسی دنیا میں نیکیاں کرے تب اگلے جہان میں کامیاب ہوسکتا ہے۔مگر دیکھو رحمت الہی بھی کس قدر وسیع ہے۔کہا جا سکتا تھا کہ جب دنیا میں کسی کو نور نہیں ملا تو کیا پھر اسے کبھی نور نہ مل سکے گا اور وہ ہمیشہ کے لئے محروم ہو جائے گا اور اگر اسے نوریل سکتا ہے جس کی طرف فَالْتَمِسُوا نُورًا میں ایک مخفی اشارہ ہے تو کیسے۔اس کے متعلق فرمایا۔فَضْرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ منافقوں اور مومنوں کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی۔اور اس میں ایک دروازہ رکھا جائے گا۔یہ تو صاف بات ہے کہ جنت والے تو جنت سے باہر نہیں جائیں گے اس لئے یقیناً یہ دروازہ اسی لئے رکھا جائے گا کہ باہر والے اندر آجائیں۔پس بتایا کہ گونور اسی دنیا میں حاصل ہو سکتا ہے لیکن جو اس سے محروم رہیں گے انہیں بعض حالتوں میں سے گزارنے کے بعد معاف کر دیا جائے گا۔اور وہ اس دروازہ میں سے گذر کر جنت میں داخل ہو جائیں گے۔بَاطِنه فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ جنتی حواس اور قوتوں سے ہی دوزخ پیدا ہوتی ہے۔یعنی حواس حقیقی تو نیک ہی ہیں لیکن ان کے غلط استعمال سے دوزخ پیدا ہوتی ہے۔غرض اس دعوئی میں بھی قرآن کریم کے ساتھ اور کوئی کتاب شریک نہیں ہے۔