فضائل القرآن — Page 98
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 98 80 دے دیں اور دوسرا ٹکڑا مجھے بھجواد میں جب وہ دونوں ٹکڑے مل جائیں گے تو مشنری سمجھ لے گا کہ آپ نے جو ہدایات بھیجی ہیں وہ اصلی ہیں۔یہی حالت انسان کی روحانیت کے متعلق ہوتی ہے۔ایک ٹکڑا کلام الہی کا انسان کے دماغ میں ہوتا ہے اور دوسرا ٹکڑا نبی کے پاس ہوتا ہے جب وہ دونوں فیٹ ہو جاتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر فٹ نہ ہوں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ایسا کلام پیش کرنے والا دھوکا باز ہے۔کتاب مبین اور کتاب مکنون کا اتحاد غرض روحانی ترقیات کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہی تعلیم نازل ہو جو روحانی قابلیتوں کے مشابہ ہو۔پس اس طرح ایک رنگ میں کلام الہی انسانی دماغ میں بھی موجود ہوتا ہے۔لیکن وہ مخفی ہوتا ہے اور اس کا ابھارنا ایک کتاب واضح کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم کا نام اسی جہت سے کتاب مبین آیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔قَدْ جَاءَ كُم مِنَ اللهِ نُورٌ وَكِتَبٌ مُّبِين ۵۰ اے لوگو! تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور اور واضح کتاب آچکی ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ۔پس روحانی قابلیتیں بمنزلہ زمین کے پانی کے ہیں جو آسمانی پانی کے قرب کے ساتھ اونچا ہوتا ہے۔اور جس طرح بارش نہ ہونے پر کنوؤں کے پانی سوکھنے لگتے ہیں اسی طرح الہام کے نازل نہ ہونے پر فطرت کا سرچشمہ خشک ہونے لگتا ہے۔پس باوجود اس کے کہ فطرت میں کلام مخفی طور پر موجود ہے وہ آسمانی پانی کی عدم موجودگی میں گدلا اور خراب ہو جاتا ہے اور اس پر بھروسہ کرنا کافی نہیں ہوسکتا۔ہاں جب آسمانی پانی نازل ہو تو دونوں ایک دوسرے پر گواہ ہوتے ہیں۔آسمانی پانی فطرت کے پانی کی صفائی کی گواہی دیتا ہے اور فطرت کا پانی آسمانی پانی کی صفائی پر گواہی دیتا ہے۔گویاوہ ایک چیز کے دوٹکڑے ہیں کہ دونوں مل کر ایک وجود پورا ہوتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ایک ٹکڑا انسان کے دماغ میں اس لئے رکھا ہے کہ جب آسمانی پانی نازل ہو تو فطرتِ صحیحہ اس کے لئے بطور شاہد ہو۔پس کتاب مبین اور کتاب مکنون کا اتحاد کتاب مبین اور کتاب مکنون دونوں کی سچائی پر شاہد ہوتا ہے۔اور دھو کے بازوں کے دھوکا سے بچاتا ہے اور ان میں آپس میں ایسا ربط ہے کہ جب ایک