فضائل القرآن — Page 97
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 97 وحی کا پانی نازل ہوتا ہے تو روح انسانی سے بھی روحانی پانی ابلنے لگتا ہے کیونکہ الہی کلام اور انسانی فطرت ایک دوسرے کے لئے بطور جوڑے کے ہیں۔ایک لفظوں میں کتاب الہی ہوتی ہے اور دوسری فطرت میں مرکوز ہوتی ہے۔اور وہی کتاب الہامی ہوسکتی ہے۔جو انسانی فطرت کے مطابق ہو پس انسانی فطرت میں بھی کلام الہی ہوتا ہے۔مگر اسے اُبھارنے کے لئے الہام کی ضرورت ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے ایک طرف تو اپنے کلام کا ایک حصہ انسان کے دماغ میں رکھ دیا اور دوسرا حصہ اس نے اپنے نبی کو دے کر بھیج دیا۔جب یہ دونوں حصے ایک دوسرے کے ساتھ مجھڑ جاتے ہیں تو اسے خدا کی طرف سے سمجھ لیا جاتا ہے۔سفر ولایت کے ایام کا ایک واقعہ اس موقع پر میں ایک لطیفہ سناتا ہوں۔جب میں ولایت سے واپس آیا تو جس جہاز پر ہم سوار ہوئے اس کا چیف انجینئر ایک دن جہاز کی مشینری دکھانے کے لئے مجھے لے گیا۔اور دکھانے کے بعد کہنے لگا کہ آپ اپنے سیکرٹریوں کو واپس بھیج دیں۔میں آپ کے ساتھ ایک خاص بات کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا بہت اچھا۔میں نے ساتھیوں کو بھیج دیا۔جب وہ چلے گئے تو کہنے لگا۔آپ کے پاس مختلف ممالک کے خطوط آتے ہونگے۔اگر آپ مجھے ان خطوط کے ٹکٹ بھجوا دیا کریں تو میں بہت ممنون ہونگا۔میں نے کہا اچھا اگر کوئی غیر معمولی ٹکٹ ملا تو بھیج دیا کروں گا۔کہنے لگا میں بھی آپ کی خدمت کروں گا۔آپ مجھ پر اعتبار کریں اور مجھ سے کام لیں۔پھر کہنے لگا۔آپ جس غرض کے لئے ولایت گئے تھے وہ مجھے معلوم ہے اور وہ یہی ہے کہ آپ نے حکومت کے خلاف وہاں مشنری رکھے ہوئے ہیں انہیں آپ مخفی ہدایات دینے گئے تھے۔اب آپ جو مخفی تحریریں بھیجنا چاہیں وہ میں لے جایا کروں گا۔آپ اس طرح کریں کہ کارڈ کا ایک ٹکڑا آپ اپنے مشنریوں کو دیں اور دوسرے میرے ذریعہ بھیجیں۔جب دونوں ٹکڑے ایک دوسرے کے ساتھ فٹ (Fit) ہو جایا کریں گے تو آپ کے مشنری سمجھ لیں گے کہ آپ نے جو ہدایات ان کو بھیجی ہیں وہ اصلی ہیں۔اس طرح وہ آپ کی ہدایت پہچان لیا کریں گے۔اس کا یہ قیاس تو غلط تھا اور میں نے اس کی تردید بھی کی اور کہا کہ ہم اپنی حکومت کے وفادار ہیں۔مگر جس طرح اس نے کہا تھا کہ ایک ٹکڑا آپ اپنے مشنری کو