فضائل القرآن — Page 89
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 89 پہلی کتب میں قرآن کریم کی موجودگی کے معنی مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ قرآن کریم کی ساری تعلیم وہی ہے جو پہلی کتابوں میں تھی بلکہ یہ ہیں کہ پہلی کتابوں کی صحیح تعلیم قرآن کریم میں موجود ہے اور اس سے زائد بھی ہے۔پھر پہلی کتب میں اس کلام کی موجودگی سے یہ بھی مراد ہے کہ ان میں ایک کتاب کی پیشگوئی پائی جاتی ہے۔اسی طرح تمام صفات الہیہ کا قرآن کریم میں مبسوط بیان ہے مگر اور کتابوں میں اس طرح ذکر نہیں ہے۔انجیل میں صرف پانچ سات صفات کا ذکر آتا ہے۔تورات میں نسبتا زیادہ صفات کا ذکر ہے مگر قرآن نے جتنی صفات پیش کی ہیں اتنی تو رات نے بھی پیش نہیں کیں۔پھر پہلی کتابیں ان صفات کو بطور دلیل پیش نہیں کرتیں بلکہ صرف دُعاؤں میں ان کا ذکر آجاتا ہے۔حالانکہ ضروری ہے کہ صفات الہیہ کا نہ صرف بالاستیعاب ذکر ہو بلکہ ان کے الگ الگ کام اور ان کے ثبوت بھی دیئے جائیں مگر یہ کام صرف قرآن کریم نے کیا ہے۔صفات الہیہ کی تشریح بھی خدا تعالی کی طرف سے ہونی چاہئے پھر یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ صرف صفات کے نام بھی کافی نہیں جب تک ان کے صحیح معنی بھی بیان نہ کئے جائیں کیونکہ خالی نام صرف شدت محبت کے اظہار کے لئے بھی جمع کئے جا سکتے ہیں جب کہ ان ناموں کے لینے والا ان کی حقیقت سے کچھ بھی واقف نہ ہو۔جیسے پیار کے وقت انسان بہت سے نام لے لیتا ہے لیکن ان کی حقیقت کا اسے علم نہیں ہوتا۔پس صرف کسی صفت کا ذکر کر دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ ایک صفت کا ذکر ہو اور پھر اس کی تشریح اور توضیح بھی خدا تعالیٰ ہی کے الفاظ میں ہو۔جیسے گورنمنٹ ایک قانون بناتی ہے تو ساتھ ہی بعض الفاظ کی تشریح بھی کر دیتی ہے کہ فلاں لفظ کے یہ معنی ہیں تا کہ اس میں اختلاف نہ شروع ہو جائے۔اسی طرح خدائی کلام کا یہ بھی کام ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات بیان کرے اور خود ہی ان کی تشریح کرے۔چنانچہ دیکھ لور محمن کا لفظ عربوں میں موجود تھا۔اور وہ اسے استعمال کرتے تھے۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرحمن مَا عَبَدُهُمْ ۲۵ یعنی وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر رحمن خدا چاہتا تو ہم اس کے سوا