فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 434

فضائل القرآن — Page 90

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ دوسرے معبودوں کی پرستش نہ کرتے۔خود مسیلمہ کذاب بھی رحمن یمامہ کہلاتا تھا۔لیکن جب رخمن کے معنوں کو قرآن کریم نے بیان کیا تو وہ حیران رہ گئے۔اور چونکہ ان معنوں کے رو سے ان کے مذہب پر زد پڑتی تھی صاف کہہ اُٹھے کہ ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہوتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَإِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَن قَالُوا وَمَا الرَّحْمَنِ انَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمُ نُفُورًا ) جب انہیں کہا جاتا ہے کہ رحمن کی عبادت کرو۔تو وہ کہتے ہیں رخمن کون ہے۔کیا ہم اس کے آگے سجدہ کریں جس کے آگے سجدہ کرنے کا تو حکم دیتا ہے۔اور یہ بات ان کو نفرت میں اور بڑھا دیتی ہے۔اس کی وجہ کیا تھی؟ یہی کہ وہ رحمن کے اور معنی کرتے تھے۔چنانچہ آگے اللہ تعالیٰ نے اس کے معنی بھی کر دیئے اور بتا دیا کہ ان معنوں میں ہم رحمن کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔اور ان معنوں سے رد کرتے ہیں۔فرماتا ہے۔تبرك الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيْهَا سِرَجًا وَقَمَرًا مُّبِيرًا وَهُوَ 90 الَّذِي جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَنَّ كَرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا ۲ یعنی رحمن تو وہ ہے جس نے آسمانوں میں بروج بنائے اور ان میں چمکتا ہوا سورج اور نور دینے والا چاند بنایا۔اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا۔مگر ان کے لئے جو نصیحت حاصل کرنا چاہیں یا شکر گزار بندے بنا چاہیں۔یہاں رخمن کی تشریح کر دی۔اور مطلب بیان کر دیا کہ رمحمن سے مراد خدا تعالیٰ کی وہ صفت ہے جو انسان کے عمل سے بھی پہلے اس کے لئے کام شروع کر دیتی ہے۔چنانچہ بتایا۔دیکھو ہم نے چاند اور سورج کو انسان کے پیدا ہونے سے پہلے بنایا۔اور پھر اس کی ضرورت بھی بیان کر دی۔اور وہ یہ کہ انسان کو عمل کرنے کے لئے اسباب کی ضرورت ہے۔اگر اسباب نہ ہوں تو وہ عمل کس طرح کر سکے۔مثلاً بڑھئی ہولیکن لکڑی نہ ہو تو وہ کیا کرسکتا ہے۔پس ضروری تھا کہ انسان پر اس کے اعمال شروع کرنے سے قبل انعام ہوتا۔اور انعام کے طور پر اس کے لئے اسباب مہیا کئے جاتے تا کہ وہ عمل کر سکتا۔پس یہ کہنا غلط ہے کہ دنیا کی ہر چیز انسان کے عمل کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے کیونکہ عمل ہو ہی نہیں سکتا جب تک پہلے کچھ انعام نہ ہو۔پھر یہ وجہ بتائی کہ رحمانیت کی ضرورت انسان کے شکور بننے کے لئے ہے۔شگور کے لئے عمل کی شرط ہے۔اور عمل بغیر رحمانیت کے نہیں ہوسکتا۔اگر اس کی یہ صفت نہ ہوتی