فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 434

فضائل القرآن — Page 65

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 65 ما يَشَاءُ کے مطابق آئی ہے۔پہلے صرف دو دو تین تین چار چار کمالات ظاہر کرنے کے لئے آئی تھی پس قرآن کریم کے نزول میں زمین و آسمان کے کمالات کے ظہور کے سامان رکھے گئے ہیں۔صفات الہیہ اور ان کی مظہریت یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کسی کتاب میں کسی صفت کا ذکر ہونا یہ اور امر ہے اور اس کی صفت کا مظہر ہونا اور امر ہے۔یوں تو رب العلمین کی صفت اور کتب میں بھی ہے مگر وہ اس صفت کا مظہر ہونے کی مدعی نہیں ہیں۔قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ واضح الفاظ میں فرماتا ہے وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَلَمِينَ ٢٢ یہ کتاب رَبُّ العلمین کی صفت کے ماتحت نازل ہوئی ہے۔چونکہ یہ سارے جہان کو مخاطب کرتی ہے اس لئے ساری کی ساری صفات اس میں ظاہر کی گئی ہیں۔پس قرآن کریم خدا تعالی کی تمام صفات کا مظہر ہے رہے۔ظاہری حسن میں برتری ایک اور وجہ فضیلت ( جسے میں نے بارہویں نمبر پر بیان کیا تھا ) کسی چیز کا ظاہری حسن میں دوسری اشیاء پر فائق ہونا ہوتا ہے۔کیونکہ ایک ہی قسم کی چیزوں میں سے انسان طبیعی طور پر ظاہری حسن میں فائق چیز کو منتخب کرتا ہے۔بلکہ سب سے پہلے یہی چیز انسان کی دلکشی کا موجب بنتی ہے۔میں نے جب اس لحاظ سے دیکھا تو قرآن کریم کو ظاہری طور پر بھی خوبصورت پایا۔بلکہ ایسا خوبصورت پایا کہ گو یورپ نے اس خوبصورتی کو مٹانے کے لئے اپنا سارا زور صرف کردیا مگر پھر بھی وہ نا کام رہا۔اس خوبصورتی کومٹانے کے لئے یورپ نے چارطریق اختیار کئے ہیں۔عیسائیوں کے چار اعتراضات اول۔یہ کہا گیا کہ قرآن کریم کا سٹائل ( نَعُوذُ بِاللہ) نہایت بھدا ہے۔دوم۔یہ کہا گیا کہ اس میں بہت سے غیر عربی الفاظ داخل ہیں۔سوئم۔یہ کہ اس میں فضول تکرار ہے یونہی ایک بات کو دُہراتا چلا جاتا ہے۔