فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 434

فضائل القرآن — Page 64

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ صفت کا ظہور ہوا۔لیکن کوئی پہلی کتاب ایسی نہیں جو رب العلمین کی صفت کی مظہر ہو۔کوئی کتاب دو صفات کی یا چار صفات کی یا پانچ صفات کی مظہر تھی مگر کوئی کتاب رب العلمین کی صفت کی مظہر نہ تھی۔اسی طرح کوئی کتاب قرآن کریم کی طرح اکملیت کی مظہر نہ تھی۔کوئی کتاب خدا تعالی کی صفت قیوم کی مظہر نہ تھی کیونکہ قرآن کریم سے پہلی ہر ایک کتاب منسوخ ہونے والی تھی لیکن قرآن کریم چونکہ ہمیشہ رہنے والی کتاب تھی اس لئے یہ تینوں صفات قرآن کریم میں ظاہر ہوئیں۔جو صفات پہلی کتب میں ظاہر ہو چکی ہیں وہ بھی سب کی سب تمام کتب میں ظاہر نہ ہوئی تھیں بلکہ بعض ایک میں اور بعض دوسری میں بیان کی گئی تھیں لیکن قرآن کریم میں وہ بھی سب جمع ہیں۔پس قرآن کریم منبع کے لحاظ سے بھی افضل ہے۔اس مضمون کو قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا ہے۔الْحَمدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَئِكَةِ رُسُلًا أُولَى أَجْنِحَةٍ مَثْنَى وَثُلَكَ وَرُبعَ - يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللهَ عَلى كُلّ شَینِی قَدِير ٣ یعنی آسمان اور زمین کے کمالات ظاہر کرنے والے خدا کا شکر اور اس کی حمد ہے۔وہ اپنے ملائکہ کو اظہار کمالات کے لئے نازل کرتا رہتا ہے اور ان کے کئی پر ہوتے ہیں۔یعنی وہ کئی رنگ کی پنا ہیں اپنے ساتھ لاتے ہیں۔جناح عربی زبان میں پناہ اور حمایت کو بھی کہتے ہیں۔اور فرشتے جو نازل کئے جاتے ہیں وہ دو دو تین تین چار چار پروں والے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے اپنی پیدائش میں اضافہ کر دیتا ہے۔یعنی جیسا موقع ہوتا ہے اتنے ہی پر زیادہ کر دیتا ہے۔یہاں بتایا کہ سب تعریفیں اللہ کی ہیں جو زمین اور آسمانوں کو پیدا کرنے والا ہے۔اس میں یہ اشارہ ہے کہ قرآن کریم کے نزول میں آسمان و زمین کے کمالات کے ظہور کے سامان رکھے گئے ہیں اور اسی کے لحاظ سے ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔پس قرآن کریم کا نزول ان تمام صفات پر مشتمل ہے جن سے یہ دنیا وابستہ ہے اور فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ کی صفت کا ظہور اس کے ذریعہ سے ہوا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک ایک مرکز پر ساری دنیا جمع نہ ہو خدا تعالیٰ کی ہر لحاظ سے تعریف نہیں کی جا سکتی۔اَلحَمدُ لله تبھی کہا جا سکتا ہے جب ساری دنیا کے لحاظ سے رب الْعَالَمِین کی صفت کا اظہار ہو۔اسی لئے فرمایا کہ اب جو تعلیم آئی ہے یہ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ 64