فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 434

فضائل القرآن — Page 66

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 66 چہارم۔یہ کہ اس کے مضامین میں کوئی ترتیب نہیں۔کہیں احکام شروع ہیں تو ساتھ ہی وعظ کیا جاتا ہے۔پھر لڑائیوں کا ذکر آ جاتا ہے تو ساتھ ہی منافقوں کو ڈانٹا جاتا ہے۔لیکن یہ اعتراض جیسا کہ میں ابھی بتاؤں گا درست نہیں بلکہ قرآن کریم کا ظاہری حسن بھی اسے گل دنیا کی کتب پر افضل قرار دیتا ہے اور یہ فضیلت دس خوبیوں سے ثابت ہے۔قرآنی زبان کی فصاحت اول زبان کی فصاحت۔قرآن کی یہ خوبی اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ دشمن سے دشمن نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے اور عربوں نے تو اس کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور بڑے بڑے ادیب اس کے کمال کے آگے عاجز آگئے ہیں۔میں اس کے متعلق دوستوں کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔وہ لبید عرب کا ایک مشہور شاعر تھا جو سات بڑے مشہور شاعروں میں سے ایک تھا۔پہلے و اسلام کا مخالف تھا مگر بعد میں ایمان لے آیا۔اسلام لانے کے بعد وہ ہر وقت قرآن کریم پڑھتا رہتا۔اور اس نے شعر کہنے ترک کر دیئے۔حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ اپنے زمانہ خلافت میں کوفہ کے گورنر مغیرہ بن شعبہ کو چٹھی لکھی کہ اپنے علاقہ کے مشہور شاعروں سے اچھے اچھے اشعار لکھوا کر مجھے بھیجو۔مغیرہ نے اس کام کے لئے دو شاعر اغلب اور لبید پسند کئے اور انہیں کہا گیا خلیفہ وقت کا حکم آیا ہے کہ کچھ شعر لکھ کر بھیجو۔اس پر اغلب نے تو قصیدہ لکھا لیکن لبید نے کہا جب سے میں اسلام لایا ہوں میں نے شعر کہنے چھوڑ دیئے ہیں۔جب انہیں مجبور کیا گیا تو وہ سورۃ بقرہ کی چند آئتیں لکھ کر لے آئے اور کہا کہ ان کے سوا مجھے کچھ نہیں آتا۔مغیرہ نے لبید کو سزادی اور اغلب کی حضرت عمر کے پاس سفارش کی۔لیکن حضرت عمر کو لبید کی بات کی اتنی لذت آئی کہ انہوں نے کہا لبید نے جو کچھ کہا ہے اس سے اس کے ایمان کا ثبوت ملتا ہے کہ اتنا قادر الکلام ہونے کے باوجود شرماتا ہے کہ قرآن کے سوا کچھ اور اپنی زبان سے نکالے۔مسیحیوں نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ کیا لبید نے پہلے کبھی قرآن نہ سنا تھا جبکہ وہ اسلام کا مخالف تھا۔وہ دراصل لالچ کے لئے اس طرح کہتا تھا لیکن اس دلیل سے عیسائیت پر بھی اعتراض وارد ہوتا ہے کیونکہ بعض دفعہ ایک انسان کئی بار انجیل پڑھتا اور عیسائیوں کے وعظ سنتا ہے؟