فضائل القرآن — Page 376
فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 376 ہ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ یہ کہتے ہیں کہ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبَّنَا یعنی اے بھلے مانسو! جو استعارے کو حقیقت قرار دیتے ہو کیا تم اس امر کو نہیں جانتے کہ جب تم استعارہ کو حقیقت قرار دو گے تو قرآن کریم کی بعض آیات جھوٹی ہو جائیں گی اور وہ کچی ثابت نہیں ہو سکتیں جب تک استعارہ کو استعارہ کی حد میں نہ رکھا جائے۔حالانکہ وہ دونوں خدا کی طرف سے ہیں اور دونوں سچی ہیں اور جب دونوں باتیں سچی ہیں تو لازما ماننا پڑے گا کہ ان میں سے ایک حقیقت ہے اور ایک استعارہ۔وَمَا يَذَّكَرُ الَّا أُولُو الْأَلْبَاب مگر یہ فائدہ عقلمند لوگ ہی اُٹھاتے ہیں۔حضرت مسیح کا معجزہ احیائے موتی اس ضمن میں کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں مگر ایک موٹی مثال احیائے موٹی کی ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مُردے زندہ کیا کرتے تھے اور دوسری طرف قرآن میں ہی لکھا ہے کہ مردے کی روح اس جہان میں واپس نہیں آتی۔اب اگر ہم مردوں کو زندہ کرنے سے حقیقی مردوں کا احیاء مراد لیں تو ان میں سے ایک آیت کو نعوذباللہ جھوٹا ماننا پڑتا ہے لیکن اگر مردوں سے روحانی مردے مُراد لیں تو دونوں آیتیں سچی ہو جاتی ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف حضرت عیسی علیہ السلام سے فرمایا کہ مُردے زندہ کرو اور دوسری طرف کہہ دیا کہ مُردے واپس نہیں آتے۔اس طرح جو استعارہ کا فائدہ تھا وہ بھی حاصل ہو گیا اور جو نقصان تھا وہ بھی دُور ہو گیا۔احیائے موتی کے الفاظ استعمال کرنے سے مضمون میں جو وسعت پیدا کرنا مد نظر تھا وہ وسعت بھی پیدا ہوگئی اور جو خطرہ تھا کہ جاہل مسلمان انہیں خدا قرار نہ دے لیں اسے بھی دُور کر دیا۔مجاز اور استعارہ کے بارہ میں رسول کریم میانی آپ ان کا ارشاد ان معنوں کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم سان سلیم نے کچھ لوگوں کے متعلق سنا کہ وہ محکمات و متشابہات کے بارہ میں جھگڑتے اور استعارہ اور حقیقت میں فرق نہ سمجھتے ہوئے قابلِ اعتراض